صالح حکمران کی وصیت

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
صالح حکمران کی وصیت

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ خلفا راشدین کے بعد تاریخ اسلام کے کامیاب ترین حکمران ہیں،اپنے تقویٰ ،تقدس، فراست اور حسن تدبر کی وجہ سے تاریخ میں آپ کو نہایت ہی عزت کی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے ۔ذیل میں آپ کے وہ روشن اورتابناک اقوال درج کیے جاتے ہیں جو ایک مسلمان خاص طور پر حکمرانوں کے لیے رہنماء اصول ہیں۔
زہرخوانی کی وجہ سے آپ کے جانبر ہونے کی کوئی امید نہیں رہی اوروصال کے آثار نمودارہوئے توکسی نے عرض کی، اے امیرالمومنین !اپنے بعد آنے والے خلیفہ یزید بن عبدالملک کے لیے وصیت اورنصیحت کی کوئی تحریر لکھوادیجئے ، آپ نے اپنے کاتب کو حکم فرمایا کہ لکھو : اے یزید ! غفلت کے وقت کی لغزش اوربے احتیاطی سے بچ کررہنا کیونکہ اس کا ازالہ نہیں ہوسکتا اورنہ ہی رجوع کی توفیق نصیب ہوتی ہے ، دیکھو تم ان تمام چیزوں کو ان (قدرنا شناس اورخود غرض )لوگوں کے لیے چھوڑ جائوگے،جو تمہیں ایک کلمہ خیر سے بھی یاد نہیںکرینگے، تمہیں (بالآخر) اس ذاتِ (قادروقیوم) کی طرف لوٹ کرجانا ہے ،جس کے یہاں تمہارے کسی عذر ومعذرت کی کوئی شنوائی نہیں ہوگی، یہ بھی تحریر فرمایا :تم جانتے ہو کہ امور خلافت کے بارے میں مجھ سے سوال کیا جائے گا اوراللہ رب العزت مجھ سے اس کا حساب لے گا اورمیں اس سے اپنا کوئی کام پوشیدہ نہ رکھ سکوں گا ، اگر وہ مجھ سے راضی ہوگیا تو میں کامیاب وسرخروہوں گا اورایک طویل عذاب سے محفوظ رہوں گا ، اوراگر وہ مجھ سے ناراض ہوا تو افسوس ہے میرے انجام پر میں اللہ کریم سے دعاکرتا ہوں کہ وہ مجھے اپنی رحمت کے طفیل جہنم سے نجات دے اوراپنی رضامندی اور خوشنودی سے جنت عطاء فرمادے ،تمہیں چاہیے کہ تقویٰ اختیار کرو، اوررعایا کا خیال رکھو کیونکہ تم بھی کچھ مدت کے بعد قبر میں اتر جائوگے، لہٰذا تمہیں غفلت میں ڈوب کر ایسی غلطی نہیں کرنی چاہیے ، جس کی تم کوئی تلافی نہ کرسکو، سیلمان بن عبدالملک ، اللہ کا ایک بندہ تھا  جس نے اپنی موت سے پہلے مجھے خلیفہ بنایا، میرے لیے خودبیعت لی، اورمیرے بعد تم کو ولی عہد مقرر کیا، مجھے امیر المومنین کایہ منصب اس لیے نہیںملا کہ میں بہت سے بیویوں کا انتخاب کروں اورمال ودولت جمع کروں، اللہ رب العزت نے مجھے پہلے ہی بہت سے اسباب عطاء کردیے تھے لیکن میں سخت حساب اورنازک سوالات سے ڈرتا ہوں۔(ابن جوزی)
وصال کے وقت ـحاضرین کو کہا میں تمہیں اپنے اس وقت (نزاع) کے حال سے ڈراتا ہوں کہ ایک دن تمہیں بھی (اس مرحلے سے گزرنا ہے)اوراسطرح ہونا ہے۔ (احیاء العلوم)حضرت امام احمدبن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب تم دیکھو کہ کوئی شخص حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ سے محبت رکھتا ہے اورانکی خوبیوں کو بیان کرنے اورعام کرنے کا اہتمام کرتا ہے تو اسکے لیے خیر ہی خیر ہے۔(ابن جوزی)