شانِ استقلال

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
شانِ استقلال

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکی زندگی میں بڑے سخت اورجاں گسل مرحلو ں سے گزرناپڑا۔ نبوت کے ساتویں سال کفار مکہ نے باہم مل کر معاہدہ کیا کہ جب تک بنو ہاشم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کو قتل کے لیے ہمارے حوالے نہ کردیں ،کوئی شخص ان سے کسی قسم کا تعلق نہ رکھے ،نہ ان کے ساتھ رشتہ کرے ،نہ سلام وکلام کرے، نہ ان کے ساتھ خرید وفروخت کرے ،نہ اس سے ملے اورنہ ان کے پاس کھانے پینے کا سامان جانے دے۔
جب سب لوگ اس معاہدے پر متفق ہوگئے تو انہوں نے اسے ایک صحیفہ میں قلم بندکیا پھر اس کی پابندی کا پختہ وعدہ کیا اور اسے کعبہ مقدسہ کے اندر آویزاں کردیا ۔تاکہ ہر شخص اس کی پابندی کرے۔
یہ معاہد ہ منصور بن عکرمہ نے لکھا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی انگلیوں کو شل کردیا ۔ نہ وہ حرکت کرسکتی تھیں نہ ان سے لکھا جاسکتا تھا۔ کفارومشرکین کی سازشیوں کے پیشِ نظر جناب ابو طالب بنو ہاشم اوربنو مطلب کی معیت میں ایک گھاٹی میں منتقل ہوگئے جو شعب ابی طالب کے نام سے مشہور تھی۔یہ گھاٹی انھیں ورثہ میں ملی تھی اور آپ کی ملکیت تھی۔
بنوہاشم میں سے ابو لہب وہ بدبخت تھا،جس نے اپنی قوم کا ساتھ دینے کی بجائے کفارومشرکین کا ساتھ دیا۔ شعب ابی طالب کا مرحلہ بڑا ہی سخت اوردشوار تھا، مکہ کے باز ار اور منڈیاں تو ان لوگوں پر بند کر ہی دی گئیں تھیں۔ اگر کوئی قافلہ تجارت باہر سے مکہ مکرمہ آتا تو اس پر بھی پابندی تھی کہ وہ بنوہاشم کے ہاتھ کسی قسم کوئی سامان فروخت نہ کریں ،مکہ کے تاجر آگے بڑھ کر ان سے سارا سامان خرید لیتے ۔
اگر مسلمان کسی طرح ان تاجروں تک پہنچ جاتے تو ابو لہب انھیں تاکید کرنا کہ انھیں اتنی زیادہ قیمت بتاﺅ کہ یہ خرید ہی نہ سکیں اگر تمہیں خسارہ ہوا تو اسے میں پورا کروں گا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ محصور ین کو بسااوقات درختوں کے پتے کھا کر گزارا کرنا پڑتا۔ حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان ایّا م میں ایک دفعہ مجھے خشک چمڑے کاایک ٹکڑا ہاتھ آیا ،میں نے اسے دھویا اورجلاکر نرم کرلیا اورپانی کے گھونٹ کے ساتھ نگل کراپنی بھوک مٹائی۔ چھوٹے چھوٹے بچے بھوک سے بلکتے رہتے ۔ لیکن کفار کو کوئی رحم نہ آتا اوروہ خوراک کاایک دانہ بھی وہاں تک نہ پہنچنے دیتے اورانھوں نے اس کام کے لیے باقاعدہ پہریدار مقررکردیے تھے۔
اگر کوئی ایسا کرتا ہوا پکڑا جاتا تو اس کے خلاف سخت کاروائی کی جاتی، ان تمام شدتوں اورتکلیفوں کے باوجود نہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے پائے ثبات میں کوئی لغزش آئی اورنہ ہی آپ کے ساتھیوں میں سے کسی ایک نے بھی کسی کمزوری کا مظاہرہ بلکہ حضور اس حال میں بھی قبائل کو پیغام اسلام پہنچاتے رہے اورپورے جوش وخروش سے تبلیغِ اسلام کو جاری رکھا۔