فضائل علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم (2)

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
فضائل علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم (2)

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریمؓ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول کریم محبوبﷺ نے یمن کیطرف بھیجا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ رحمت کائناتﷺ آپ مجھے انکے درمیان فیصلے کرنے کیلئے بھجوا رہے ہیں اور میں ایک نوجوان آدمی ہوں جو قضا سے واقف نہیں۔ آپ نے میرے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا: اے اللہ اسکے دل کو ہدایت فرما اور اسکی زبان کو ثبات عطا کر۔ اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا ہے کہ مجھے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے کبھی شک نہیں ہوا۔ (حاکم) حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ رحمت عالمﷺ نے فرمایا ہے کہ حضرت علیؓ کیطرف دیکھنا عبادت ہے۔ اس حدیث کی سند حسن صحیح ہے۔ (طبرانی، حاکم) حضرت سعد بن وقاصؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم رحمت خداﷺ نے فرمایا ہے جس نے علی کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی۔ (ابویعلیٰ، بزار) حضرت اُم سلمہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم محبوب خداﷺ نے فرمایا: جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی اور جس نے علی سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے مجھ سے بغض رکھا اس نے اللہ سے بغض رکھا۔ (طبرانی) حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم رحمت عالمﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا تو نے جیسے تنزیل قرآن پر جنگ کی ہے ایسے ہی تاویل قرآن پر جنگ کرےگا۔ (احمد بن حنبل، حاکم) حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریمؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول کریم محبوب خداﷺ نے بلایا اور فرمایا تجھ میں عیسیٰؑ کی ایک مثال ہے۔ یہود نے آپ سے یہاں تک بغض رکھا کہ آپکی والدہ محترمہ پر بہتان باندھا اور نصاریٰ نے آپ سے یہاں تک محبت کی کہ آپ کو وہ مقام دیا جو آپکو حاصل نہ تھا۔ سنو میرے بارے میں دو آدمی ہلاک ہو جائینگے۔ ایک حد سے بڑھا ہوا محب، جو میری ستائش میں وہ بات کہتا ہے جو مجھ میں نہیں پائی جاتی دوسرا وہ بغض رکھنے والا جسکو میری دشمنی مجھ پر بہتان لگانے پر آمادہ کر دیتی ہے۔ (بزار، ابو یعلیٰ، حاکم) حضرت ام سلمہؓ بیان فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اکرم رحمت کائناتﷺ کو فرماتے سنا کہ علی قرآن کےساتھ ہے اور قرآن علی کےساتھ ہے، وہ حوض کوثر تک ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونگے۔ (طبرانی) امیر المومنین علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریمؓ نے ارشادفرمایا، ایسا ممکن نہیں اللہ تبارک و تعالیٰ کسی شخص کےلئے شکر (کی توفیق)کا دروازہ تو کھول دے اور اپنی طرف سے اضافہ نعمت کا دروازہ بند کر دے، دعاءکا دروازہ تو کشادہ کر دے اور قبولیت (دعائ) کا دروازہ بند کر دے اور اسطرح بھی نہیں ہوتا کہ توبہ کا باب کرم تو کھول دے اور مغفرت کا دروازہ مقفل کر دے میں تمہیں اللہ تبارک و تعالیٰ کی کتاب قرآن سے دلیل دیتا ہوں۔ اللہ رب العز ت ارشاد فرماتا ہے۔ ”مجھے پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا“۔(المومن :۶۰) ”اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اورزیادہ دونگا“۔(البقرة :۱۵۲)