سنگ ہائے میل

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی

٭حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ارشادفرماتے ہیں:اسلام کے آٹھ حصے ہیں، اسلام (ایمان اورقبولیت دین )ایک حصہ ہے،نماز ایک حصہ ہے،زکوٰةایک حصہ ہے،حج بیت اللہ ایک حصہ ہے،جہاد ایک حصہ ہے،صوم رمضان ایک حصہ ہے،امربالمعروف ایک حصہ ہے،نہی عن المنکر ایک حصہ ہے۔خا ئب و خاسر ہو وہ شخص جس کے پاس کوئی حصہ نہیں ۔(سنن نسائی)
دارقطنی اورمسند ابی یعلیٰ میں یہی حدیثِ پاک حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت کی گئی ہے۔
٭حضرت زیاد بن نعیم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں،حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایا:اللہ تبارک وتعالیٰ نے ( ایمان کے بعد)اسلام میں چار چیزیں فرض کی ہیں،اگر کوئی شخص ان میں سے صرف تین بجالائے تب بھی وہ اس کوکوئی فائدہ نہ پہنچا سکیں گی حتیٰ کہ وہ ان تمام پر عمل پیرا ہو،نماز ،زکوٰة،رمضان کے روزے اوربیت اللہ کا حج۔(مسند احمد)
٭حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایا:جس طرح راستے کی علامات ہیں، (یعنی سنگ میل وغیرہ جنہیں دیکھتے ہوئے انسان منزل تک پہنچ جاتا ہے)اسی طرح اسلام کی بھی علامات ہیں۔ان علامات میں سے ہے ،اللہ تبارک وتعالیٰ کی عبادت کرنا ،اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا،نماز قائم کرنا ،زکوٰة ادا کرنا ، رمضان کے روزے رکھنا ،امر بالمعروف کرنا ،نہی عن المنکر کرنا،بنی آدم کو سلام کرنااگر انھوںنے سلام کا جواب دے دیا تو فرشتے تم اوراُن پر رحمت بھیجیں گے،اگر انھوںنے سلام کا نہ دیا تو فرشتے تم پر رحمت بھیجیں گے اوران پر نفرین (جان بوجھ کر یا کسی تعصب کی وجہ سے جواب نہ دینے پر )یا ان کے لیے خاموش رہیں گے، گھرمیں داخلے کے وقت اہل خانہ کو سلام کرنا۔جس شخص سے کوئی ایک چیز بھی کم ہوگی یقینا اسلام کے حصوں میں سے ایک حصہ اُس سے ترک ہوگیااور جس نے تما م کو چھوڑ دیا بلاشبہ اس نے اسلام کو چھوڑ دیا۔ (طبرانی)
٭حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں ،حضورانور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایا:یقینا ایمان اُسی شخص کے دل میں قرار پکڑتا ہے جو اللہ تبارک وتعالیٰ سے محبت رکھتا ہے ۔ (کنزالعمال)
٭حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں ،حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایا:جب انسان مشرف بہ اسلام ہو اوراپنی زندگی کو مکمل طور پر اس میں ڈھال لے تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر سرزد شدہ خطاکا کفارہ فرمادیتا ہے اور اس کی بعداس کے ساتھ یہ معاملہ ہوتا ہے کہ اس کو ہر نیکی کے بدلے دس نیکیاں ملتی ہیں جو سات سو تک بڑھ سکتی ہیں، لیکن برائی صرف ایک گناہ ہی رہتی ہے بلکہ امید ہے کہ اللہ رب العزت اس سے بھی درگزر فرمادے۔(بخاری ،نسائی)