فضائل علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم (۱)

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
فضائل علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم (۱)

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ تبوک کے موقع پر حضرت علی کو پیچھے چھوڑا تو آپ نے عرض کیا یارسول اللہ ! آپ مجھے عورتوں اوربچوں میں چھوڑے جارہے ہیں، تو آپ نے فرمایا : ’’کیا آپ اس بات سے راضی نہیں کہ آپ کو مجھ سے وہ مقام حاصل ہوجو حضرت ہارون کو موسیٰ علیہ السلام سے تھا۔ ہاں میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔(بخاری ، مسلم، بزار)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے روز فرمایا میں کل اس شخص کوپرچم(قیادت) دوں گاجس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح دے گا۔ وہ اللہ اوراس کے رسول کا محب ہوگا اوراللہ اوراس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہوں گے۔ رات بھر لوگ اس موضوع پر باتیں کرتے رہے کہ ان میں سے کس کو آپ جھنڈا دیں گے ۔ صبح ہوئی تو سب کے سب اس امید پر کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اسے جھنڈا دیں گے آپ کے پاس حاضر ہوئے ۔ آپ نے فرمایا: علی بن ابی طالب کہاں ہیں۔ عرض کیا : ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے۔ فرمایا : انہیں بلائو۔ جب وہ حاضر ہوئے تو حضور علیہ السلام نے ان کی آنکھوں پر لعاب دہن لگا کر دعا کی تو آپ تندرست ہوگئے۔ گویا آپ کوکوئی تکلیف ہی نہ تھی۔ آپ نے انہیںپرچم عطافرمایا۔ (ترمذی)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سب لوگوں سے بڑھ کر آپ کو محبوب تھیں اوران کے خاوند حضرت علی مردوں میں سے آپ کو زیادہ محبوب تھے۔ (ترمذی)
حضرت عبداللہ ابن عمر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کے درمیان مؤاخات قائم کی تو حضرت علی نے اشک بارآنکھوں کے ساتھ حاضر ہوکر عرض کیا یارسول اللہ آپ نے اپنے اصحاب کے درمیان مؤاخات قائم کی ہے لیکن میرے ساتھ کسی کی مؤاخات نہیں کی تو حضور علیہ السلام نے فرمایا :’’کہ تو دنیا اورآخرت میںمیرا بھائی ہے‘‘۔ (ترمذی )
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس ذات کی قسم ! جس نے دانے کو پھاڑ ااور جان کو پیدا کیا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مجھے تاکید اً فرمایا ہے کہ مومن مجھ سے محبت کرے گا اورمنافق مجھ سے بغض رکھے گا۔(مسلم)
حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا بیا ن فرماتی ہیں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حالت جلال میں ہوتے تو حضرت علی کے سواکوئی شخص آپ سے گفتگو کی جرأت نہ کرتا۔(طبرانی ، حاکم)