اخلاص ِامیر

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
اخلاص ِامیر

عتبہ بن فرقد علیہ الرحمة کہتے ہیں، میں کھجور اور گھی کے بنے ہوئے حلوے کے ٹوکرے لے کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے استفسار فرمایا یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: کھانے کی چیز ہے۔ آپ صبح سے عوام الناس کی خدمت میں سرگرم ہوجاتے ہیں۔ میرا جی چاہتا ہے کہ جب آپ کارِ خدمت سے فارغ ہوکر گھر جائیں تو اس میں سے کچھ تناول فرما لیا کریں۔ آپکی جانِ عزیز کو طاقت وتوانائی اور طراوت حاصل ہوجایا کریگی اور آپ مزید تندہی سے مسلمانوں کے امور بجا لائیںگے۔
حضرت عمر نے ٹوکرا کھول کر دیکھا۔ فرمایا:
عتبہ! میں تمہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم نے ہر مسلمان کو حلوے کا ایک ایسا ٹوکرا دے دیا ہے۔ میں نے عرض کیا‘ امیرالمومنین! میں قبیلہ قیس کا سارا مال بھی خرچ کردوں یہ پھر بھی ممکن نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: پھر مجھے بھی تمہارے اس حلوے کی ضرورت نہیں ہے۔
کھانے کا وقت ہو چکا تھا‘ آپ نے ایک بڑا پیالہ منگوایا جس میں سخت روٹی اور سخت گوشت کے ٹکڑوں سے بنا ہوا ثرید تھا۔ آپ نے مجھے بھی شریک طعام فرمایا۔
حضرت عمر میرے ساتھ اس سالن کو بڑی رغبت سے تناول فرما رہے تھے۔ میں کوھان کی چربی سمجھ کر ایک سفید ٹکڑے کی طرف ہاتھ بڑھاتا تو اسے اٹھانے کے بعد پتہ چلتا کہ یہ تو پٹھے کا ٹکڑا ہے۔
میں ناچار گوشت کے اسی ٹکڑے کو چبانے لگتا، لیکن وہ اتنا سخت ہوتا کہ میں اسے نگل نہ پاتا، جب حضرت عمر کی توجہ ادھر ادھر ہوجاتی تو میں گوشت کے اس ٹکڑے کو منہ سے نکال کر پیالے اور دسترخوان کے درمیان چھپا دیتا۔
کھانے سے فارغ ہوکر حضرت عمر نے نبیذ کا ایک ایسا پیالہ منگوایا جس میں ترش شربت تھا جو سرکہ بننے والا تھا۔ انہوں نے مجھے پیش کیا۔ میں اسے لے کر پینے لگا، لیکن بڑی مشکل سے حلق سے نیچے اتار سکا۔ انہوں نے وہ پیالہ مجھ سے لے لیا اور اسے پی گئے۔ پھر فرمانے لگے:
 اے عتبہ سنو! ہم روزانہ ایک اونٹ ذبح کرتے ہیں اور اسکی چربی اور عمدہ ونرم گوشت سے ان مہمانوں کی تواضع کرتے ہیں۔ جو مدینہ منورہ میں باہر سے تشریف لاتے ہیں۔ اسکی گردن آل عمر کے حصہ میں آتی ہے‘ وہ یہ سخت گوشت کھاتے ہیں۔ اور پھر یہ باسی اورترش نبیذ پیتے ہیں تاکہ یہ پیٹ میں جاکر گوشت کے ٹکڑے ٹکڑے کرے۔ اسے نرم کردے، یہ سخت گوشت ہمیں تکلیف نہ دے سکے اور باآسانی ہضم ہوجائے۔ (کنزالعمال)