تلوار کا حق

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
تلوار کا حق

اُحد کامعرکہ بپا ہوا تو جناب رسالت مآب علیہ اطیب التحیات والتسلیمات نے نیام سے اپنی تلوار نکالی ،اسے ہوا میں لہرایا اوراپنے جاں نثاروں سے استفسار فرمایا:’’کون ہے جو اس تلوار کو اس شرط پر مجھ سے لے ،کہ وہ اس کا حق اداکرے گا۔‘‘ کئی صحابہ کرام اٹھ کھڑے ہوئے اوراسے حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ لیکن حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہر بار پیچھے کھینچ لیا۔آخر کار عرب کے مشہور بہادر حضرت ابودجانہ سماک بن خرش کھڑے ہوئے اورعرض کیا ہے۔ یارسول اللہ ! اس کا حق ہے کیا ؟آپ نے ارشادفرمایا،اس کا حق یہ ہے کہ تم اس سے دشمن پر پے درپے وار کر و۔یہاں تک کہ یہ ٹیڑھی ہوجائے ۔ابو دجانہ نے عرض کیا ،میں اس شرط یہ تلوار لینے کے لیے تیار ہوں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تلوار انھیں مرحمت فرمادی ۔ حضرت ابودجانہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک سرخ پٹکا تھا جسے ’’عصابۃ الموت‘‘یعنی موت کا ڈوپٹہ کہاجاتا تھا۔ آپ جس وقت وہ سرخ پٹکا سرپر باند لیتے تو لوگوں کو یقین ہوجاتا تھا کہ اب دشمن کی خیر نہیں ہے۔
جب حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو وہ تلوار عطافرمائی تو آپ نے اپنا وہ شفق رنگ ڈوپٹہ نکالا اسے سرپر باندھ لیا اوراس مبارک تلوارکو لہراتے ہوئے ، بڑی فخریہ انداز میں اتر ااترا کر چلنے لگے۔حضور نے اپنے تیغ زن کی اس ادا ء کو دیکھا تو مسکرائے اورفرمایا یہ ایک ایسی چال ہے جو اللہ کو سخت ناپسند ہے لیکن سوائے اس قسم کے موقع کے۔
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،جنگ کے دوران ایک مشرک غراتا ہوا مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے نکلا، کہنے لگا یہ (مسلمان)لوگ اس طرح اکٹھے ہوگئے ہیں،جیسے بھیڑیں ذبح کرنے کے لیے اکٹھی کی جاتی ہیں۔ میںنے دیکھا کہ ایک مسلمان مجاہد ذرا آگے بڑھ کر اس کا انتظار کرنے لگا کہ یہ کچھ اورپیش قدمی کرے تواس سے دوہاتھ کروں۔اس نے زرہ زیب تن کی ہوئی تھی اورسرپر خود بھی پہنا ہوا تھا ۔میںبھی آگے بڑھ کر اس مجاہد کے عقب میں کھڑا ہوگیااور ان دونوں کا تقابلی جائزہ لینے لگا ،بظاہر جسمانی قوت اورسامانِ حرب وضرب کے اعتبار سے وہ کافر اس مسلمان سے کئی درجہ برتر محسوس ہوتا تھا۔ میںنے کہا کہ دیکھئے کیا نتیجہ نکلتا ہے ، وہ دونوں ایک دوسرے پر حملہ آور ہوگئے،مسلمان مجاہد نے اللہ کا نام پاک لے کر اپنی تلوار اس کا فر کی گردن پر ماری جو اس کی پشت کو چیرتی ہوئی اس کی ٹانگوں سے نکل گئی، اس کا جسم دوٹکڑے ہوکر زمین پر جاگرا، اس کو کیفر کردار تک پہنچانے کے بعد اس مجاہد نے اپنے چہرے سے خوداُٹھایا اورمجھے مخاطب ہوکر کہا،اے کعب !کیسا منظر تھا ،جو تم نے دیکھا میں ’’ابو دجانہ ‘‘ہوں۔(رضی اللہ عنہم اجمعین)