زکوٰة (۱)

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
زکوٰة (۱)

زکوٰة اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک ہے، تزکیہ کو عام فہم انداز میں یوں سمجھئے کہ جیسے باغ یا باغیچہ کو گوڈی کی جاتی ہے، گوڈی کرنے سے فالتو جڑی بوٹیاں اورجھاڑ جھنکار صاف ہوجاتا ہے اورزمین کی توانائی بڑھ جاتی ہے، اس کی قوت نمومیں اضافہ ہوجاتا ہے اور اس میں اصل مقصد یعنی پھل پھول پیدا کرنے کی استعداد بڑھ جاتی ہے ۔اسی طرح زکوٰة اداکرنے سے بھی مال ودولت کی توانائی میں اضافہ ہوجاتا ہے اس میں برکت اوروسعت پیداہوجاتی ہے۔
امام ابوداﺅد رحمة اللہ علیہ اپنی صحیح میں روایت کرتے ہیںکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اپنے اموال کو زکوٰة کے ذریعے سے محفوظ بناﺅ اوراپنے بیماروں کا علاج صدقہ سے کرو اوربلا اورمصیبت کی امواجِ (بلاخیز)کا سامنا دعاءاوراللہ رب العزت کے حضور میں عاجزی سے کرو۔(ابوداﺅد ، بیہقی ، طبرانی)
اسی طرح ایک اورحدیث مبارکہ میں قدرے تفصیل سے بیان کیاگیا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں حطیم کے اندر تشریف فرماتھے ، کسی نے تذکرہ کیا کہ فلاں افراد کا بڑا نقصان ہوگیا ہے ، سمندر کی سرکش موجیںان کے مال کو بہا کرلے گئیں، آپ نے ارشادفرمایا ، جنگل ہویا سمند کسی بھی مقام پر جو مال ضائع ہوتا ہے وہ زکوٰة نہ دینے سے ضائع ہوتا ہے، اپنے اموال کی ادائیگیِ زکوٰة سے حفاظت کیاکرو، اپنے بیماروں کی صدقہ سے (علاج)کرو، اوربلاﺅں کے نزول کو دعاﺅں سے دور کیا کرو، دعااس بلاکو بھی زائل کردیتی ہے جو نازل ہوگئی ہواوراس بلا کو روک دیتی ہے، جو ابھی نازل نہ ہوئی ہو، جب اللہ جل شانہ¾ کسی قوم کی بقاءچاہتا ہے اورا س کی نموچاہتا ہے ، تواس قوم میں گناہوں سے عفت اورجودوبخشش کی خصلت عطاءکردیتا ہے اورجب کسی قوم کو نابود کرنا چاہتا ہے تواس میں خیانت پیدا کردیتا ہے۔(کنزالعمال)
حضرت ابودرداءرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : زکوٰة اسلام کا (بہت بڑا اورمضبوط )پل ہے ۔(الترغیب والترہیب)پل ایک جگہ سے دوسرے مقام تک پہنچنے کا ذریعہ بنتا ہے اسی طرح زکوٰة بھی اللہ رب العزت کی بارگاہ عالیہ تک رسائی کا ذریعہ ہے۔حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمة اللہ علیہ کے پوتے حضرت عبدالعزیز بن عمیر علیہ الرحمة کا ارشادہے کہ نماز تجھے آدھے راستے تک پہنچادے گی ، روزہ بادشاہ کے دروازے تک رسائی بخش دے گا، اورصدقہ تجھے بادشاہ کی بارگاہ میں باریاب کردے گا۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا :جو شخص (اپنے)مال کی زکوٰة اداکردے تو اس کے مال سے شر (نقصان دوپہلو)جاتا رہتا ہے (طبرانی ، ابن خزیمہ، مستدرک )امام حاکم کہتے ہیں کہ یہ حدیث مسلم شریف کی شرائط کے مطابق صحیح ہے۔