دَرَجاَ ت اور کفَّارات

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
دَرَجاَ ت اور کفَّارات

حضرت معاذبن جبل ؓ  فرماتے ہیں:ایک دن صبح کی نماز کا وقت تھا حضور اکرم ؐاپنے معمول مبارک کے مطابق تشریف نہ لائے قریب تھا کہ سورج طلوع ہوجا ئے اتنے میں حضور تیزی سے تشریف لے آئے ۔ تکبیر ہوئی اور آپ نے نماز پڑھائی ۔ سلام کے بعد ارشاد فرمایا اپنی صفوں میں بیٹھے رہو۔ پھر ہماری طر ف متوجہ ہوکر فرمایا کہ میں تمہیں تاخیر سے آنے کی وجہ بتاتا ہوں ۔ میں آج رات ذکرِ الہٰی میں کھڑا ہوا حسبِ مقدور نماز پڑھی ، مجھے نماز ہی میں نیند نے آلیا یہاں تک کہ مجھے کیفیتِ نزولِ وحی محسوس ہوئی پھر میں کیا دیکھتا ہو ں کہ میرا ربِ (کریم )بڑی ہی پیاری صورت کے ساتھ جلوہ افروز ہے ۔ اور (میر ے رب نے ) فرمایا : یا محمد! میں نے عر ض کی لبیک یا ربی اے میر ے رب میں حاضر ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا  یہ مَلا ء اعلی کے فرشتے کس بات میں جھگڑ رہے ہیں ۔ میں عر ض کی (میر ا)اللہ ہی بہترجانتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنا دستِ قدرت میر ے دونوں کاندھوں کے درمیا ن رکھ دیا اس کی ٹھنڈک، میں نے سینے کے درمیان تک محسوس کی ۔ اس کی برکت سے میرے لیے ہر چیز روشن ہوگئی ۔ اور میں نے اس کو پہچان لیا۔ پھر اللہ رب العز ت نے پوچھا :یا محمد! میں نے عر ض کی: اللَّھم لبیکپوچھا، آسمان کے فرشتے کس بات پر جھگڑ رہے ہیں ۔ میں نے عرض کی درجات اور کفارات (کے باب ) میں، اللہ تعالیٰ نے پوچھا :درجا ت (بلندیوں تک لے جانے والی چیزیں) کیا ہیں میں نے عر ض کی،’’ کھا نا کھلانا (سخاوت ومہمان نوازی کرنا) سلام پھیلانا (ہر ایک مسلمان کو السلام علیکم کہنا ) اور رات کی تنہائیوں میں جب دوسرے لوگ گہری نیند میں ہوں اٹھ کر نماز پڑھنا ‘‘۔ رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (اے میر ے حبیب تو نے )سچ کہا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے استفسار فرمایا اب بتائو کفارات(گناہ مٹانے والی، غلطیوں کا زالہ کرنے والی) کیا ہیں ؟ میں نے عر ض کی ’’تکلیف کی حالت میں بھی مکمل وضو کرنا ، ایک نماز سے فارغ ہو کر دوسری نماز کا انتظار کرنا اور جماعت میں شریک ہونے کے لیے چل کر جانا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اے میر ے محبو ب تو نے ) سچ کہا ،اب مانگو جو مانگنا چاہتے ہو، تو میںنے بارگاہِ میں گزارش کی،’’ الہٰی میں تجھ سے نیک کام کرنے کی بُرے کاموں کو چھوڑنے کی اور مسکینوں سے محبت کر نے کی توفیق مانگتا ہوں اور میں التجاء کرتا ہوں کہ مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرمااور جب اپنے بندوں کو توکسی فتنہ میں مبتلا کرنا چاہے تو مجھے فتنہ سے بچا کر اپنی طر ف بُلا لے اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں مجھے اپنی محبت عطا فرما اور جو تجھ سے محبت کر تا ہے اس کی محبت عطا فرمااور اس کام کی محبت عطا فرما جو مجھے تیر ی محبت کے قر یب کر دے ‘‘۔ حضور نے صحابہ کو فرمایا دعا کے یہ فقر ے تم بھی سیکھ لو اور لوگوں کو بھی سکھا ئو کیونکہ یہ حق ہے ۔