توبہ اورمغفرت

 ارشادِ خداوندی ہے:۔
٭اے مومنو! تم سب اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف توبہ کرو،تاکہ تم دونوں جہانوں میں کامیاب ہوجاﺅ۔(نور۔۳۱)
٭اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ایسی توبہ کرو،جو خالص ہو۔(تحریم۔۸)
٭بے شک اللہ تعالیٰ بہت توبہ کرنے والوں اور خوب پاک ہونے والوں کو پسند کرتا ہے۔(البقرة ۔۲۲۲)
٭نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ پاک ہے:”توبہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کا محبوب ہے اورگناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے گویا اس نے گناہ کیا ہی نہیں“۔(ابن ماجہ)
٭حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،میںنے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ”خدا کی قسم ! میں ایک دن میںستر مرتبہ سے زیادہ خد اسے معافی مانگتا ہوں اورتوبہ کرتا ہوں“۔(بخاری)
٭حضرت اغر بن یسار المزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:اے لوگو! اللہ تبارک وتعالیٰ سے معافی مانگواور اس کی طرف رجوع(توبہ ) کرو،بے شک میں ایک دن میں سو مرتبہ سے زیادہ توبہ کرتا ہوں۔(مسلم)
٭خادمِ رسول حضرت ابو حمزہ انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے ،جس کو بے آب وگیاہ چٹیل میدان میں کھو جانے کے بعد اونٹ واپس مل گیا ہو۔(بخاری،مسلم)
٭حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول فرمائی تو فرشتوں نے ان کو مبارکباد دی،حضرت جبریل علیہ السلام اور حضرت میکائیل علیہ السلام زمین پر اترے اورکہا:اے آدم علیہ السلام ! اللہ تعالیٰ نے آپ کی توبہ قبول فرمائی ،تو اس سے آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈک حاصل ہوگئی۔حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا:اے جبریل !اگر اس توبہ کی قبولیت کے بعد بھی سوال ہواتو میرا ٹھکانہ کیاہوگا؟تو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی ،”اے آدم!آپ نے اپنی اولاد کے لیے بطور وراثت رنج و تکلیف بھی چھوڑی ہے اورتوبہ بھی،آپ کی اولاد میں سے جو مجھے پکارے گا ،میں اس کی دعا قبول کروں گا،جس طرح میںنے آپ کی دعا قبول کی ہے اور جو مجھ سے مغفرت مانگے گا ،میں اس سے بخل نہیں کروںگا کیونکہ میں قریب ہوں اوردعا قبول کرنے والا بھی ہوں،اے آدم!میں توبہ کرنے والوں کو قبروں سے اس طرح باہر لاﺅں گا کہ وہ خوش ہونگے اور مسکرا رہے ہوں گے اوران کی دعا قبول ہوگی“۔(احیاءالعلوم)