سرفروشی کی تمنا

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابوسعد خثیمہ بن ابو خثیمہ رضی اللہ عنہ ضعیف العمر ہوچکے تھے،لیکن احد کا معرکہ بپا ہوا توحضور علیہ الصلوٰة والتسلیم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا، یا رسول اللہ ! میں غزوہ بدر میں شریک نہ ہوا،اورجہاد کی سعادت سے سرفراز نہ ہوسکا،واللہ ! مجھے اس معرکے میں شرکت کا بے حد اشتیاق تھا۔لیکن میںنے اور میرے بیٹے سعد(رضی اللہ عنہ )نے آپس میں قرعہ اندازی کی تھی اورقرعہ اس کے نام نکل آیا تھا۔ وہ بدر میں شریک بھی ہوا اوراس نے جام شہادت بھی نوش کیا۔کل رات میںنے اپنے بیٹے کو خواب میں دیکھا،اس کی حالت بہت عمدہ تھی ،وہ جنت کے باغات میں محو خرام تھا اورنہروں کی سیر کررہا تھا ۔اس نے مجھے کہا”ابا جان! آجاﺅ، جنت میں اکٹھے رہیں گے ، میں نے اپنے رب کریم کے وعدے کو سچاپایا ہے۔“
یارسول اللہ ! میں اس وقت سے بڑا بے تاب ہوں، میں چاہتا ہوں کہ جتنی جلدی ممکن ہو اس کے پاس پہنچ جاﺅں،آقا ءحضور آپ دعاءفرمائیں کہ اللہ رب العزت مجھے بھی شرف شہادت سے سرفراز فرمائے اورمجھے جنت میں اپنے بیٹے کی معیت بھی نصیب ہو۔ حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس جاںنثار صحابی کے لیے اللہ کی بارگاہ میں دعافرمائی ۔جو قبولیت سے سرفراز ہوئی اوراللہ کریم نے حضرت خثیمہ رضی اللہ عنہ کو غزوہ احد میں خلعت شہادت عطاءفرمادی۔
ان کے فرزند ارجمند حضرت سعدبن خثیمہ رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابی ہیں۔انھیں بیعت عقبہ میں شرکت کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں قدم رنجہ فرمایا تو اولاً کچھ عرصہ ،قبیلہ عمرو بن عوف میں قیام کیااور حضرت کلثوم بن الہدم رضی اللہ عنہ کے گھر کو مشرف فرمایا،جب کہ مہاجرین انصار سے ملاقات ،حضرت سعد بن خثیمہ کے گھر میں فرمایا کرتے تھے۔ جو قدرے وسیع اورکشادہ تھااور ”مننزل الحزاب“کے نام سے معروف تھا۔آپ کو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی میزبانی کا شرف بھی حاصل ہوا۔
جب آپ نے غزوہ بدرمیں شرکت کا قصد کیا تو ایک عجیب واقعہ پیش آیا ۔آپ کے والد محترم نے ارشافرمایا، ہم میں سے ایک فردکو گھر میں رہنا چاہیے ،لہٰذا تم گھر میں رہو میں جہاد میں شریک ہوتا ہوں۔بیٹے نے عرض کیا۔اباجان اگر جاں سپاری اورجنت کے علاوہ کوئی اورمعاملہ ہوتا تو میں آپ کو ترجیع دیتا ،میں خود جاﺅںگا۔تاہم فیصلہ ہواکہ باہم قرعہ ڈالا جائے،حضرت خثیمہ نے قرعہ ڈالا جس میں بیٹے کا نام نکل آیا،اللہ نے انھیں بدر میں شہادت عطاءفرمادی اور احدمیں جاں نثار باپ بھی اپنے فرزند عزیز سے جاملا۔(رضی اللہ عنہم اجمعین)