سب سے محبت

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
سب سے محبت

اللہ تبارک وتعالیٰ کی تخلیق کردہ کائنات میں اس کے پیارے محبوب محمد مصطفیٰ علیہ التحتہ والثنا ء سے بڑھ کر کوئی بھی صاحبِ فضیلت نہیں۔لیکن اس کے باوجود آپ کے مزاج مبارک میں انتہائی عاجزی ،انکساری اور فروتنی تھی، ہر ایک کی عزت افزائی فرماتے اورہر ایک سے محبت کرتے۔ 

ابو طفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے جعرانہ کے موقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جلوئہ افروز دیکھا میں ابھی اس وقت نوعمر تھا، اس اثنا میں ایک خاتون وہاں آئیں اورحضور کے قریب ہوئیں، آپ نے اپنی چادر مبارک بچھا دی اورانھیں اس پر بٹھا دیا۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا یہ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی والدہ (حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا)ہیں۔جنہوں نے حضور کو دودھ پلایا ہے۔(ابودائود )
امام ابودائود روایت کرتے ہیں ایک روز سرکار دوعالم تشریف فرماتھے کہ آپ کے رضاعی والد حاضر ہوئے۔ آپ نے اپنی چادر کا ایک گوشہ ان کے لئے بچھا دیا وہ اس پر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر بعد آپ کی رضا عی والدہ تشریف لائیں ،حضور نے اپنی چادر کا دوسرا گوشہ ان کے لئے بچھا دیا وہ بھی اس پر بیٹھ گئیں پھر آپ کے رضاعی بھائی بھی آگئے ،حضور کھڑے ہوگئے اورانھیں اپنے سامنے بٹھا لیا۔(ابودائود)
آپ اپنے صحابہ سے کس طرح محبت سے پیش آئے اورکسی بھی بات پر ناگواری کا اظہار نہ فرماتے (الایہ کہ وہ خلافِ شریعت ہو) اس کا اندازا درج ذیل واقعہ سے ہوسکتا ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ ننگی پشت والے گدھے پر سوار ہوکر قبا کی طرف روانہ ہوئے ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی ساتھ چل پڑے ، حضور علیہ السلام نے فرمایا: اے ابوہریرہ! کیا میں تمہیں اپنے ساتھ سوار نہ کرلوں ۔عرض کیا یا رسول اللہ جیسے حضور کی مرضی ۔آپ نے فرمایا: میرے ساتھ سوار ہوجائو۔ انہوں نے سوار ہونے کے لئے چھلانگ لگائی۔ وہ سوار نہ ہوسکے اور بے ساختہ حضور کو پکڑ لیا، یہاں تک کہ وہ دونوں زمین پر آگئے۔ حضور پھر سوار ہوگئے۔ اورحضرت ابوہریرہ سے دوبارہ فرمایا کہ تم بھی سوار ہوجائو۔انھوں نے پھر کوشش کی لیکن اس بار بھی سوار نہ ہوسکے۔ اورحضور کو پکڑ لیا اوردونوں پھر زمین پر آگئے۔حضور تیسری بار سوار ہوئے تو آپ نے حضرت ابوہریرہ کو پھر اپنے ساتھ سوار ہونے کی پیش کش فرمائی۔لیکن انھوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ اب مجھ میں سوار ہونے کی ہمت نہیں۔ میں آپ کو تیسری بار نیچے لانے کا سبب نہیں بن سکتا۔ (محب طبری)
ابو قتادہ کہتے ہیں نجاشی کا وفد حاضر خدمت ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود ان کی خدمت میں مصروف ہوگئے ہم نے عرض کیا حضور ہم کافی ہیں آپ نے فرمایا ’’ان لوگوں نے(ہجرت حبشہ کے دوران) میرے صحابہ کی بڑی تکریم کی تھی، میں چاہتا ہوں خود اس کا بدلہ دوں۔(بیہقی )