کسبِ حرام

کسبِ حرام

٭حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔کسی شخص نے دس درہم کا کپڑا خریدا،اگر ان میں سے ایک درہم بھی حرام کا شامل تھا، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی نماز اس وقت تک قبول نہیں فرمائے گا۔جب تک اس کپڑے میںسے ایک دھجی بھی اس کے جسم پہ باقی رہ جائے گی ۔(مسند امام احمد بن حنبل )
 ٭حضرت ابو سلمیٰ المحصی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جس نے کوئی مال ظلم وستم کے ذریعے سے حاصل کیا۔ اس مال کو اللہ تعالیٰ ہلاکتوں (نقصان دہ چیزیں ) میں صرف کروادے گا۔(کنزالاعمال )
٭حضرت ابوہر یرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں ۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کسی شخص نے چوری کا مال خریدا ،حالانکہ اسے معلوم تھا کہ یہ چوری کا مال ہے تو وہ اس (چوری )کی ذلت اور گناہ میں برابرکا شریک ہوگا۔(مستدرک امام حاکم )
٭حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر وہ جسم جس کی پرورش مالِ حرام سے ہوتی ہو، اس کے لیے آگ ہی بہتر (ٹھکانہ ) ہے ۔(شعب الایمان)
٭حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :۔تم میں سے کسی شخص کا اپنے منہ میں خاک ڈال لینا اس سے بہتر ہے کہ وہ اس چیز کو اپنے منہ میں ڈالے جسے اللہ نے حرام قرار دے دیا ہے ۔ (امام بیہقی)
٭حضرت حسین ابن علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حرام آمدنی میں سے صدقہ کرنے والے کی مثال اس بدکار عورت کی طرح ہے۔ جواپنی غلط کاری کی آمدن میں مریضوں وغیرہ پر صدقہ کرے۔ (کنز ا لاعما ل )
٭حضرت قاسم بن مغیرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس نے حرام مال کمایا اور اس سے صلہ رحمی کی (عزیزواقارب کو ہدیہ دیا) یا اس سے صدقہ کیا یا اس مال سے اللہ کے راستے میں خرچ کیا، تو اللہ تعالیٰ اس سب مال کو جمع کرے گا اور اس کے ساتھ ہی دوزخ میں ڈال دیا جائے گا(ابن عساکر)
٭حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد دفرمایا: جس نے حرام کا ایک لقمہ (بھی ) کھایا، اس کی چالیس دن تک کی دعا بھی قبول نہیں ہوگی اور ہر وہ گوشت جس کی پرورش مالِ حرام سے ہوئی ہو، اس کے لیے آگ ہی بہتر ہے۔ چاہے اس گوشت کی پرورش محض ایک لقمہ حرام ہی سے کیوں نہ ہوئی ہو۔(محدث دیلمی)