خلقِ پیغمبر

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
خلقِ پیغمبر

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں اگرکوئی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کرتا تو آپ اپنا گوش مبارک اس سے نہ ہٹاتے ،جب تک کہ وہ سرگوشی سے فارغ نہ ہوجاتا ۔اگر کوئی آپ کا دست مبارک پکڑتا تو جب تک وہ دستِ مبارک کو پکڑے رہتا حضور خود اپنے دستِ اقدس کو نہ کھینچتے ۔اپنی مجلس میں بیٹھنے والوں سے اپنے گھٹنوں کو آگے نہ کرتے۔ جو شخص بھی آپ سے شرف ملاقات حاصل کرتا ،آپ اسے سلام کہنے میں پہل فرماتے ، اپنے صحابہ کرام کے ساتھ مصافحہ فرماتے ، اپنے ملاقاتیوں کی عزت افزائی کیاکرتے، بسااوقات ان کے لیے اپنی چادرمبارک بچھا دیتے اوران سے اصرار فرماتے کہ اس کے اوپر بیٹھیں ۔

اگر تکیہ ہوتا تو اپنے مہمان کو پیش فرماتے اوراسے مجبور کرتے کہ وہ اس سے ٹیک لگائے۔ اپنے صحابہ کو ان کی عزت افزائی کہ خاطر کنیت سے مخاطب فرماتے اگرکسی صحابی کے متعدد نام ہوتے تو اسے اس نام سے یاد کرتے جواسے زیادہ پسند ہوتا۔
اگر کوئی شخص گفتگو کررہا ہوتا تو درمیان میں بات نہ کاٹتے ،اگر آپ نماز میں مصروف ہوتے اورکوئی شخص ملاقات کے لیے حاضر ہوتا تو اپنی نماز کو مختصر کردیتے ،اور اس سے ازرہِ لطف ودریافت کرتے کہ وہ کیوں آیا ہے ،جب اس کی حاجت براری سے فارغ ہوجاتے تو دوبارہ نماز میں مشغول ہوجاتے۔ (السیرۃ النبویہ )
قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کے دلوں میں باہمی الفت و محبت پیدا کرنے کی کوشش کرتے اور انھیں ایک دوسرے سے متنفر نہیں کیاکرتے تھے۔ اگر کسی قبیلہ کا سردار حاضر خدمت ہوتا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تکریم فرماتے اور اس کو (قبول اسلام کے بعد)اسی قبیلے کا سردار مقرر فرماتے ۔
آپ اپنے تمام ہم نشینوں کے ساتھ برابر کا سلوک روارکھتے ۔آپ کے پاس بیٹھنے والا کوئی شخص بھی یہ گمان نہ کرتا کہ فلاں شخص حضور کی نظر وں میں مجھ سے زیادہ معزز ہے۔
اگر کوئی شخص کسی ضرورت کے لیے حاضر ہوتا اورحاضر ین کے ہجوم میں قریب ہونے کی کوشش کرتا توحضور اس کو اپنے قریب کرتے اور بڑے صبروتحمل سے اس کی ساری کھتا سنتے ،یہاں تک کہ وہ خود (بات کرکے سیر ہوجاتا اور)واپس چلا جاتا ۔ اگر کوئی شخص آپ سے کوئی حاجت طلب کرتا تو حضور اسے خالی ہاتھ واپس نہ بھیجتے
اگر (کسی وجہ سے)اس کی حاجت براری ممکن (یا مناسب )نہ ہوتی تو اس کے ساتھ بڑے پیار سے گفتگو فرماتے رہتے یہاں تک کہ وہ خوش وخرم (اورمطمئن )ہوکر واپس ہوتا۔ (الشفائ)