مہمان نوازی(۱)

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
مہمان نوازی(۱)

٭رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اللہ اور یومِ قیامت پر ایمان رکھتا ہے۔ اسے چاہیے کہ مہمان کی تکریم کرے، اسے خند ہ پیشانی سے ملے۔ اپنے مکان میں اتارے، ہوسکے تو عمدہ کھانے سے اس کی تواضع کرے ، اس کا حال احوال اچھے طریقے سے پوچھے ۔مہمان نوازی کا حق تین دن تک ہے۔ اس سے زیادہ (بھی ) کرے گا تو اس کا اجر وثواب حاصل کرے گا ۔(بخاری ،مسلم)
٭حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : جس گھر میں کھانا کھلانے کا اہتمام ہو۔بھلائی (خیر وخوبی ) اس گھر کی طرف(اونٹ کی) کوھان میں چلنے والی چھری سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ چل کر آتی ہے ۔(ابن ماجہ)
٭ایک شخص بارگاہ رسالت مآب میں حاضر ہوا۔ اور آپ سے پوچھا ،یا رسول اللہ آپ اس بارے میں کیا ارشادفرماتے ہیں کہ جب میں کسی (آشنا) آدمی کے پاس سے گزروں (تو وہ باوجود واقفیت کے) نہ تو میری مہمانی کرے اور نہ ہی ضیافت ۔پھر کچھ دنوں کے بعد وہی شخص میرے پاس سے گزر ے، اب میںکیا طرزِ عمل اختیار کروں، اس کی مہمان نوازی کروں یا میں بھی بدلے میں بے اعتنائی اختیا ر کروں ۔آپ نے ارشادفرمایا (نہیں نہیں )تم اس کی مہمان نوازی کرو۔(ترمذی )
٭حضرت ابو شریح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل محتشم صلی اللہ علیہ وسلم ارشادفرماتے ہیں۔ جو شخص اللہ تبارک وتعالیٰ پر اور یوم آخر ت پر ایمان (واعتقاد ) رکھتا ہے۔ اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے ۔ ایک دن اور ایک رات تو اس کی خوب خاطرمدارات کر ے ، اورویسے ضیافت تین دن تک کرے ۔ اس کے بعد اگر مہمان تین دن سے زیادہ ٹھہرے تو جو کچھ اس کی مہمان داری پر خرچ ہوگاوہ صدقہ ہے۔ اور مہمان کو(بھی ) اس قدر (دیر) تک ٹھہرنا جائز نہیں کہ میزبان کے گھر والے اس سے تنگ آجائیں ۔(بخاری)
٭حضرت ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔اپنے مہمان (کو الوداع) کرنے کے لیے اس کے ساتھ دروازے تک چل کر جانا چاہے ۔(مشکوٰۃ)
٭حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جناب رسالت مآب علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشادفرمایا : جس کو مہمان بننے کی دعوت دی جائے مگر وہ (بلاعذر شرعی ) اسے قبول نہ کرے تو اس نے اللہ اور اسکے رسول کی نافرمانی کی۔اور جو بغیر کسی دعوت کے ہی (کسی تقریب میں )داخل ہوگیا، وہ چور بن کر وہاں گیا اور نقب لگانے والا بن کر واپس آیا۔(ابو دائود)