کمالِ وابستگی(۳)

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
کمالِ وابستگی(۳)

اُم المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہابیان فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ انھوںنے ایک ایسا تکیہ خرید لیا،اس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں۔جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کاشانہ اقدس کی طرف تشریف لائے اورآپ کی نظر اس تکیہ پر پڑی تو دروازے پر ہی کھڑے ہوگئے اوراندر قدم رنجہ نہ فرمایا ، میںنے آپ کے مزاج ہمایوں کو فوراً بھانپ لیااور عرض کی یارسول اللہ مجھ سے جو بھی غلطی سرزد ہوگئی ہے میں اس پر اللہ اوراس کے رسول کی طرف توبہ کرتے ہوئے رجوع کرتی ہوں، آ پ نے استفسارفرمایا: یہ تکیہ کیسا ہے اورکہاں سے آیا ہے؟میںنے گزارش کی کہ یہ تکیہ میںنے آپ کی ذات والا تبار کے لیے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر جلوہ افروز ہوں (آرام محسوس کریں) اورٹیک لگایا کریں۔ آپ نے ارشادفرمایا: قیامت کے دن تصاویر والوں کو عذاب دیا جائے گااوران سے کہاجائے گا کہ تم نے جو تصویریں بنائی ہیں اب ان میں جان بھی ڈالو، مزید فرمایا: جس گھر میں تصویریں ہوں اس میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ (بخاری، مسلم) حضرت ضمرہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوئے انھوںنے یمن کے دو (ریشمی )حلّے زیب تن کیے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے استفسارفرمایا:اے ضمرہ!کیا تم اس قسم کے کپڑے پہن کر جنت میں داخل ہونا چاہتے ہو ، انھوںنے گزارش کی یارسول اللہ!آپ میرے لیے اللہ کی بارگاہ میں استغفار فرمائیں اورمجھے تھوڑی مہلت عطاکریں تو میں ان کو ابھی اتارکر آتا ہوں۔ آپ نے ان کے لیے دعافرمائی: اے اللہ !ضمرہ کی اس کوتاہی کو معاف فرمادے۔ حضرت ضمرہ رضی اللہ عنہ تیزی سے گھر گئے اوران کپڑوں کو اتار کر دوسرے کپڑے پہن لیے۔(الاصابہ ابن حجر)

حضرت ثعلبہ بن عنمہ الانصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انھوںنے اپنی انگلی میں سونے کی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی، جب انھوں نے آپ کی خدمت اقدس میں سلام عرض کیا تو آپ نے سلام کا جواب نہ دیا ، انھوںنے دوبارہ سلام عرض کیا تو آپ نے پھر بھی جواب نہ دیا، تیسری بار بھی ایساہی ہوا۔حاضرین میں سے کسی نے عرض کی ، یارسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم ! ثعلبہ نے تین بار آپ سے سلام عرض کیا،لیکن آپ نے جواب عنایت نہیں کیا۔ آپ نے ارشادفرمایا:کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ اس کے ہاتھ میں موجود انگارے کی گرمی کی وجہ سے میرے چہرے پر پسینہ آگیا ہے ، حضرت ثعلبہ نے اسی وقت سونے کی وہ انگوٹھی اتارکر پھینک دی۔
(مستدرک امام حاکم)