شانِ انکساری

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
شانِ انکساری

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں: ایک روزحضور سیّد العرب والعجم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے صحابہ کی معیت میں ایک راستے سے تشریف لے جارہے تھے۔ سامنے سے ایک خاتون آگئی۔ اس نے عرض کیا۔ اے اللہ کے پیارے رسول میں ایک ضرورت کی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی ہوں۔ 

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اے مادرِ فلاں ،تم اس گلی میں جس جگہ مناسب سمجھو بیٹھ جائو ، میں تمہارے پاس بیٹھوں گا۔ چنانچہ وہ ایک جگہ بیٹھ گئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہیں تشریف فرما ہوگئے اوراس وقت تک بیٹھے رہے جب تک وہ خاتون اپنی معروضات پیش کرکے فارغ نہ ہوگئی۔ (ابونعیم )
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک دن وہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے۔ کیادیکھا کہ ایک خاتون اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالکل نزدیک بیٹھی ہے اوراپنے احوال بیان کررہی ہے۔ عدی کہتے ہیں یہ منظر دیکھ کر مجھے یقین ہوگیا کہ حضور قیصر وکسریٰ کی طرح کے بادشاہ نہیں ہیں۔بلکہ اللہ کے بھیجے ہوئے سچے نبی ہیں(بخاری)
کہتے ہیں کہ مدینہ طیبہ کی کمسن بچیاں اپنے کریم وشفیق ،مہربان اورمشفق آقا کی خدمت میں حاضر ہوتیں اگر کسی بچی کوکوئی کام ہوتا تو وہ اپنے آقا کا دستِ مبارک پکڑ کر آپ کو اپنے ساتھ لے جاتی ،حضور اپنادست مبارک اس کے ہاتھ سے اس وقت تک نہیں کھینچتے تھے جب تک اس کامقصد پورا نہ ہوجاتا۔
ایک مفلوک الحال مسکینہ بیمار ہوگئی۔ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں اطلاع دی گئی کہ آپ کی فلاں خادمہ بیمار ہے حضور اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔ آپ کا معمول تھا کہ فقراء ومساکین کی عیادت فرمایا کرتے تھے اور ان کا حال دریافت کیاکرتے تھے۔
حضرت معاذ بن جبل ایک دن بکری کی کھال اُتاررہے تھے ،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا آپ نے محسوس کیا کہ انہیں کھال اتارنے کا صحیح طریقہ نہیں آتا۔
حضور نے فرمایا: معاذ ذرا ہٹ جائو میں تمہیں دکھاتا ہوں کہ کھال کس طرح اتاری جاتی ہے۔ حضور سرکارِ دوجہاں علیہ التحتہ والثنا ء نے بکر ی کی کھال اتار کردکھائی اورفرمایا ۔اے نوجوان! اس طرح کھال اتاراکرو۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس آتے تو مدینہ کے بچے حضور کے استقبال کے لیے دوڑ کرآتے حضور انھیں اپنے ساتھ سوار کرلیتے اگر کچھ بچے رہ جاتے تو صحابہ کو حکم دیتے کہ انھیں اپنے ساتھ سوار کرلیں۔(السیرۃ النبویہ۔زینی دحلان)