خوفِ خدا

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
خوفِ خدا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنا ب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سات افراد کو اللہ تعالیٰ قیامت کے اس دن اپنے (عرش کے)سائے میں رکھے گا ، جس دن اس کے (عرش کے ) سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہ ہوگا۔ عدل پر وری کرنے والا حکمران۔ وہ (صالح)نوجوان جس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت وریاضت میں اپنی جوانی کے ایاّم بسر کیے ۔جس شخص نے اپنی تنہائی اور خلوت میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے ۔وہ شخص جس کا دل (ہمیشہ ) مسجد میں معلق رہا ۔وہ دو افراد جو محض اللہ کو راضی کرنے کے لیے آپس میں محبت کرتے رہے۔وہ مردِ پاک باز جسے کسی حسین و جمیل اور مال دار خاتون نے دعوتِ گناہ دی اور اس نے کہا کہ میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں۔اور وہ شخص جس نے بڑی رازداری سے چھپا کر صدقہ کیا حتیٰ کہ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہوسکی کہ اس کے دائیں ہاتھ نے (راہِ مولا میں )کیا دیا ہے۔ (بخاری، ترمذی) ٭حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مسلمان کے ایمان کا افضل درجہ یہ ہے کہ اسے اس امر کا یقین رہے کہ وہ جہاں بھی ہے اس کا خدا اس کے ساتھ (نگران )ہے۔ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بھی روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا : احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت اس حال میں کر کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے۔ اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے ۔(بخاری، مسلم، ترمذی)٭حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ اللہ تبارک وتعالیٰ سے (حدیث قدسی) روایت کرتے ہیں کہ اللہ رب العزت ارشادفرماتا ہے کہ مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم کہ میں اپنے بندے پر دوخوف اور دو امن اکھٹے نہ کروں گا۔ اگر وہ دنیا میں مجھ سے ڈرتا رہا(اور گناہوں سے مجتنب رہا )تو میں قیامت کے دن اسے امن میں رکھوں گا اور اگر وہ دنیا میں مجھ سے بے خوف رہا تو میں اسے قیامت کے دن اپنے خوف میں مبتلا کروں گا۔(بیہقی )٭حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکر م صلی اللہ علیہ وسلم ایک نوجوان کی عیادت کے لیے تشریف لائے دیکھا کہ وہ قریب المرگ ہے۔ آپ نے اس سے پوچھا اس وقت تیری کیا حالت ہے اس نے عرض کیا میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امید وار ہوں ،مگر اپنے گناہوں کی وجہ سے ڈر بھی رہا ہوں ۔ آپ نے ارشاد فرمایا ایسے موقع پر کسی بندے کے دل میں یہ دو چیزیں جمع نہیں ہوتیں مگر یہ کہ اللہ اس شخص کو اس کی امید کے مطابق عطا فرماتا ہے اور اسے خوف وخطر سے امن میں بھی رکھتا ہے ۔ (ترمذی ، ابن ماجہ)