سیّد جیلان کی مجلس وعظ

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی

حضرت سیّدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمة اللہ علیہ نے جن حالات میں عوام وخواص کی تربیت کا آغاز کیا ان حالات کے بارے میں تاریخ دعوت وعزیمت کے مصنف رقم طراز ہیں۔مسلمانوں کی بڑی تعداد علمی شبہات کی بجائے عام اخلاقی کمزوریوں ،عملی کوتاہیوں اور غفلت وجہالت کاشکار تھی۔اور اس کا جلد مداوا ضروری تھا،اس لیے فوری طور پر ایک سحر بیان خطیب اور ایک ایسی بلند روحانی شخصیت کی ضرورت تھی جس کا عوام سے زیادہ رابطہ ہو۔اور جو اپنی دعوت ،مواعظ ،تزکیہ واصلاح سے جمہور اہل اسلام میںدینی روح اور نئی ایمانی زندگی پیدا کردے، مطلق العنان حکومت نے چارسو برسوں تک مسلمانوں کے اخلاق کو متاثر کیا تھا اور بڑی تعداد میں ایک ایسا طبقہ پید اہوگیا تھا جس کا مقصد زندگی حصولِ دولت یا جاہ وعزت تھا ۔ جو اگرچہ اعتقادی طور پر خدا اور آخرت کامنکر نہ تھا مگر عملاً خدا فراموش ،آخرت سے غافل اور عیش میں مست تھا ۔ عجمی تہذیب ومعاشرت نے اسلامی زندگی میں اپنے پنجے گاڑھ رکھے تھے۔ا ور عمجی عادات اور جاہلی رسوم جزوزندگی بن گئی تھیں ۔زندگی کا معیار بہت بلند ہوگیا تھا۔ سوسائٹی کے مطالبات بہت بڑھ گئے تھے۔ حکام رس ،مزاج شناس موقع پر ست لوگوں کی ایک مستقل قوم پیدا ہوگئی تھی۔ متوسط طبقہ امراءکے نقشِ قدم پر تھا۔ اور عوام اور محنت کش ان کے اخلاق وعادات سے متاثر ہورہے تھے۔ اہل دولت ایثار وہمدردی ،اور جذبہءشکر سے خالی اور تنگ حال اور محنت کش ،صبر وقناعت اور یقین وخود داری سے محروم ہوتے جارہے تھے۔ اس طرح زندگی ایک بحرانی کیفیت میں مبتلا تھی اس وقت ایک ایسی دعوت کی ضرورت تھی جو دنیا طلبی کے بحران کو کم کرے ،ایمان کو بیدار کرے اور آخرت کے یقین کو ابھارے ،خداطلبی کا ذوق پیدا کرے۔اللہ تعالیٰ کی سچی معرفت ،اس کی بندگی اور رضامندی میں عالی ہمتی اور بلند حوصلگی سے کام لے، توحید کامل کو واشگاف بیان کیا جائے۔اہل دنیا اور اربابِ دولت کی بے وقعتی اور اسباب کی کمزوری کو طاقت اور وضاحت سے بیان کیا جائے۔جناب شیخ نے وعظ واصلاح کی مجلس آراستہ کی جو جلد ہی پر ہجوم اجتماع میں تبدیل ہوگئی۔ایک ایک وعظ میں سترستر ہزار افراد شریک ہوئے۔ چا ر چار سو دواتوں کا شمار کیا گیا۔ جن کے ذریعے لوگ آپ کے ارشادات عالیہ قلم بند کرتے، لاکھوں مردہ دلوں کی مسیحائی ہوئی۔پانچ ہزار سے زیادہ غیر مسلموں نے ان مجالس سے متاثر ہوکر ایمان قبول کیا، ایک لاکھ سے زیادہ جرائم پیشہ حضرات اپنے گناہوں سے تائب ہوئے۔ بغدادکی آبادی کا بڑا حصہ آپ کے ہاتھ پر توبہ سے مشرف ہوا۔