شانِ تواضع

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
شانِ تواضع

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں ایک روز حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرماتھے۔ حضرت جبرائیل امین آپ کی خدمتِ اقدس میں حاضر تھے کہ اچانک آسمان ایک کنارے سے پھٹا ۔دفعتاًؔ ایک فرشتہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوا۔ یہ حضرت اسرافیل علیہ السلام تھے جو نہ اس سے پہلے کبھی کسی نبی پر نازل ہوئے اور نہ آج کے بعد کبھی وہ آسمان سے اتریں گے انہوں نے عرض کیا’’یا رسول اللہ آپ پر سلام ہو اور آپ کا پروردگار بھی آپ کو سلام ارشاد فرماتا ہے ۔میں آپ کے رب کی طرف سے آپ کی خدمت میں بحیثیت قاصد حاضر ہوا ہوں۔ اس رب العزت نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ کو اختیار دوں چاہے تو آپ ایسے نبی بنیں جو ’’عبد ‘‘ ہے اور چاہے تو آپ ایسے نبی بنیں جو بادشاہ ہے جبرائیل پہلے ہی حاضر خدمت تھے ،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف مشورہ طلب نگاہوں سے دیکھا ۔انہوں نے تواضع اختیار کرنے کے بارے میں عرض کیا۔ حضور نے حضرت اسرافیل سے فرمایا ’’بل نبیاً عبدًا ‘‘میں ایسا نبی بننا چاہتا ہوں جو اپنے خالق ومالک کا بندہ ہو اور اے عائشہ اگر میں ایسا نبی بننا پسند کرتا جو بادشاہ ہو تو پہاڑ سونا بن کر میر ے ہمراہ ہوتے ۔ (ابن سعد ، ابو نعیم ،ابن عساکر)

٭حضرت عائشہ فرماتی ہیں ایک روز حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کا شانہ اقدس سے باہر تشریف لے گئے دوش اقدس پر جو عباڈالی تھی ،اس کے دونوں کناروں کو گرہ دی ہوئی تھی۔ایک اعرابی حاضر خدمت ہوا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ نے ایسی عبا کیوں زیب تن فرمائی ہے۔ ارشاد فرمایا میںنے اس لئے یہ معمولی قبا پہنی ہے تاکہ میں کبر ونخوت کی بیخ کنی کرسکوں ۔(سبل الھدی)
٭بزاز کہتے ہیں کہ میںنے غزوئہ خندق کے وقت اللہ کے پیارے رسول اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ خندق کھودتے اور اس کی مٹی کو اٹھا کر باہر پھینکتے ۔اس مٹی کے گرنے سے سارا شکم مبارک گرد سے رٹ گیا تھا۔(بخاری)
٭حضرت عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو تکیہ لگا کر کھانا تناول فرماتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی حضور دوسروں سے آگے آگے چلنے کو پسند فرماتے تھے۔
٭حضرت حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضور سر ور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم جس حجرئہ مبارکہ میں تشریف فرما ہوتے اس کا دروازہ بند نہ کیا جاتا اور نہ اس پر دربان مقرر کیے جاتے جو لوگوں کو آگے بڑھنے سے روکیں ۔جوشخص حضور سے ملاقات کا ارادہ کرتا حضور اس سے ملاقات فرماتے ۔