ہرجاندار پر رحمت

ہرجاندار پر رحمت

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:۔ ٭  جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو اپنی اس کتاب میں لکھ دیا جو اسکے پاس عرش کے اوپر تھی کہ بے شک میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ (بخاری)
٭  اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سو حصے ہیں ۔ ان میں سے نناوے (۹۹) حصے اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھ لئے جن کے ذریعہ وہ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم کریگا اور صرف ایک حصہ دنیا کے انسانوں ، حیوانوں اور پرندوں میں تقسیم کیا اسی سے والدین اپنی اولاد پر اور جانور اپنے بچوں پر رحم کرتے ہیں ۔ ( مسلم)
٭  ایک شخص سفر کر رہا تھا ۔ اس کو پیاس لگی وہ ایک کنویں میں اترا اور اس سے پانی پیا ۔ جب وہ باہر آیا تو اس نے دیکھا کہ ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کی شدت سے تر مٹی کو چاٹ رہا ہے۔ اس شخص نے خیال کیا کہ اس کتے کو بھی اتنی ہی پیاس لگی ہوئی ہے جتنی مجھے لگی تھی ( لہٰذا وہ دوبارہ کنویں میں اترا) اس نے اپنے موزہ میں پانی بھرا پھر موزہ کو اپنے منہ سے پکڑ کر کنویں سے باہر آیا اور کتے کو پانی پلایا ۔اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ عمل قبول فرمایا اور اس کو بخش دیا۔ صحابہ کرام نے پوچھا ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم! کیا جانوروں کے ساتھ نیکی کرنے سے بھی ہمیں اجر ملے گا۔ آپ نے فرمایا :  ہر تر جگر والی چیز (ہرجاندار پر رحم کرنے) میں ثواب ہے ۔  ( بخاری)
٭  بنی اسرائیل میںسے ایک بد کار عورت نے ایک گرم دن میں ایک کتے کو کنویں کے گرد چکرلگاتے ہوئے دیکھا جس نے پیاس کی وجہ سے زبان باہر نکالی ہوئی تھی ۔ اس عورت نے اپنے موزہ میں پانی بھر کر اس کتے کو پلایا تو اس نیک کام کی وجہ سے اس عورت کو بخش دیا گیا ۔ ( مسلم ) ٭  حضرت عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، آپ رفع حاجت کیلئے تشریف لے گئے۔ بعد میں ہم نے ایک چھوٹی سی چڑیا کے دو بچے پکڑ لئے۔ چڑیا ہمارے سروں پر منڈلانے لگی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو فرمایا : تم میں سے کس نے اسکے بچے پکڑ کر اس کو ستایا ہے اسکے بچے اس کو واپس کر دو۔ (ابو داؤد)
٭   ۸   ؁ھ میں جب اہل مکہ نے صلح نامہ حدیبیہ کو توڑ دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پر حملہ کرنے کیلئے دس ہزار کا لشکر لے کر مدینہ سے روانہ ہوئے ، راستہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کتیا دیکھی جس نے ابھی ابھی چند بچے جنے تھے اور وہ اپنی ماں کا دودھ پی رہے تھے۔اس خیال سے کہ فوج کا کوئی سپاہی انہیں اذیت نہ پہنچائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی جمیل بن سراقہ ؓ کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ اس کتیا اور اسکے بچوں کی حفاظت کیلئے اسکے پاس کھڑا رہے تاکہ لشکر اسلام کا کوئی مجاہد اس کتیا اور اس کے بچوں کو اذیت نہ پہنچائے۔ ( سبل الھدیٰ والرشاد )