ختم نبوت

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی

اللہ رب العزت کا ارشادگرامی ہے:۔’’محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )تمہارے مردوں میں سے کسی ایک کے بھی باپ نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول اورخاتم النبین ہیں اوراللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے‘‘۔(الاحزاب ۔40)لغت کی مشہور کتاب صحاح کے مؤلف حما د بن اسماعیل الجوہری ’’ختم‘‘کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:کہا جاتا ہے کہ ختم اللہ لہ بخیر خدا اس کاخاتمہ بالخیر کرے۔وختمت القران بلغت اخرہ۔یعنی میںنے قرآن مجید آخر تک پڑھ لیااختتمت الشی نقیض افتتحتہافتتاح کی نقیض(متضاد) اختتام ہے ۔والخاتم والخاتم والختام والخاتام کلہ بمعنی واحد وخاتمہ الشی ء اخرہ یعنی خاتم خاتم ختان خاتام سب کا ایک ہی معنی ہے اورکسی چیز کے آخر کوخاتمہ الشی کہتے ہیں۔ومحمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تمام نبیوں سے آخر میں تشریف لے آئے۔علامہ ابن المنظور لسان العرب میں لکھتے ہیں ختام الوادی ،اقصاہ ،وختام القوم ،وختمہم وخاتمہم آخر ہم ومحمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء وعلیہم الصلوٰۃ والسلام ۔وادی کے آخری کو نہ کو ختام الوادی کہتے ہیں ۔قوم کے آخری فرد کو ختام ،خاتم اورخاتم کہا جاتاہے۔ اسی مناسبت سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء کہاگیا ہے۔ لسان العرب میں التہذیب کے حوالے سے لکھا ہے۔ یعنی خاتم اورخاتم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسماء میں سے ہے۔ قرآن مجید میںہے ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین یعنی سب نبیوں سے پیچھے آنے والا اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اسماء میں سے العاقب بھی ہے ۔اس کا معنی آخر الانبیاء ہے۔قرآن مقدس کی ایک اورآیہ مبارکہ میں ختامہ مسک کے الفاظ ہیں یعنی اہل جنت کو جو مشروب پلایا جائے گا اس کے آخر میں انھیں کستوری کی خوشبو آئے گی گویا کہ خاتم کی تا ء پر زیر ہویا زبر اس کا معنی ’’آخری ‘‘ہے۔لغت عرب میں خاتم کا ایک اورمعنی مہر یا مہرلگانے والا بھی مذکور ہے ۔لیکن اس مہر سے مراد وہ مہر نہیں ہے جو کسی وثیقہ کے آخر میںتصدیق یا توثیق کے لیے دستخط کے ساتھ لگائی جاتی ہے ،بلکہ اس سے مراد وہ مہر ہے جس سے کسی لفافے یا بنڈل کو سیل بند کردیا جاتا ہے۔لسان العرب کے مصنف لکھتے ہیں کہ ختم اورطبع کا ایک ہی معنی ہے اوروہ یہ کہ کسی چیز کو اس طرح ڈھانپ دینا اورمضبوطی سے بند کردینا کہ اس میں باہر سے کسی چیز کے داخلے کا امکان ہی نہ ہو۔جیسا کہ کسی چیز کو کسی لفافہ یا کپڑے کی تھیلی میں رکھ کر سربمہر کردیتے ہیں ۔حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خاتم النبیین کا یہ معنی ہے کہ اللہ کریم نے سلسلہ نبو ت آپ کی ذات اقدس پر ختم فرمادیا ہے اور اب آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔