احادیث ختم نبوت

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا ”میری اورمجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاءکی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے عمارت بنائی اورخوب حسین وجمیل بنائی مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ رکھی ہے ۔لوگ اس عمارت کے اردگرد پھرتے ہیں اوراس کے حسن تعمیر پر حیرت زدہ ہوتے ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ اس جگہ پر اینٹ کیوں نہ نصب کی گئی ،تو وہ آخری خشت میں ہوں اورمیں خاتم النبیین ہوں۔“(صحیح بخاری)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا ”مجھے چھ باتوںمیں دیگر انبیاءکرام پر فضیلت دی گئی (۱)مجھے جوامع الکلم عطا کیے گئے ”یعنی آپ کی گفتگو کے الفاظ مختصر ہوتے ہیںلیکن ان میں معنی کا بحر بے کراں موجزنً ہوتا ہے“(۲)رعب کے ذریعے میری مدد فرمائی گئی (۳)میرے لیے غنیمت کا مال حلال کیا گیا (۴) میرے لیے ساری زمین کو سجدہ گاہ بنادیا گیا اوراسے طاہر قرار دیا گیا (۵)مجھے تمام مخلوق کے لیے رسول بنا یا گیا (۶)میری ذات سے انبیاءکا سلسلہ ختم کردیا گیا ۔ “(صحیح مسلم شریف )
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا ”رسالت اور نبوت منقطع ہوچکی ہے،پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اورنہ کوئی نبی ۔“(سنن ترمذی)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ارشادفرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت تھی کیونکہ آپ خاتم النبیین ہیں ۔(سنن ترمذی)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”جب تک میری اُمت کے قبائل مشرکین کے ساتھ نہ مل جائیں اورجب تک بتوںکی عبادت نہ کی جائے اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی اورعنقریب میری امت میں تیس کذاب پیداہونگے جن میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گاکہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اورمیرے بعد کوئی نبی نہیں ۔“(سنن ابوداﺅد )
حضرت جابر بن عبداللہ روایت کرتے ہیںکہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارادہ فرمایا کہ( اس سفرِ جہاد میں )حضرت علی کو ساتھ نہ لے جائیں تو انھوںنے عرض کیا کہ یارسول اللہ اگر آپ مجھے پیچھے چھوڑ جائیں گے تو لوگ میرے متعلق کیا کیا باتیں کریں گے ۔آپ نے فرمایا کہ کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ میری اورتمہاری وہ نسبت ہے جو حضرت موسیٰ اورحضرت ہارون کی تھی مگر اتنا فرق ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا ۔ “(سنن ابن ماجہ)