امین الامت کی نصیحت

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی

امین الامت حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ خلافت اسلامیہ کی طرف سے شام میںمتعین تھے،وہ جس علاقے میں تھے وہاں طاعون کی وباء پھیل گئی ،حضرت ابوعبیدہ بھی اس مرض میں مبتلا ہوگئے ،جب ان کے جان بر ہونے کی کوئی امید نہ رہی تو انھوںنے وہاں موجودمسلمانوں کو بلایا اوران سے ارشادفرمایا:
’’میںتمہیں ایک وصیت کررہا ہوں، اگر تم نے اسے تسلیم کرلیا تو ہمیشہ خیر پر رہو گے اوروہ یہ ہے نماز قائم کرو، رمضان المبارک کے روزے رکھو، زکوٰۃ اداکرو، حج اورعمرہ کرو، آپس میں ایک دوسرے کو حسن عمل کی تاکید کرتے رہو،اپنے امیروں کے ساتھ خیرخواہی کرواوران کودھوکا مت دواور دنیاکی رغبت تمہیں آخرت سے غافل نہ کردے کیونکہ اگر انسان کی عمر ہزار سال بھی ہوجائے تو پھر بھی اسے ایک نہ ایک دن اپنے اصل پناہ گاہ یعنی موت کی طرف آنا ہی پڑے گا،جسے تم مشاہدہ بھی کررہے ہو۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمام بنی آدم کے لیے موت طے کردی ہے لہٰذا وہ سب اس کا ذائقہ چکھیں گے ۔
بنی آدم میں سب سے زیادہ دانا وفہمیدہ وہ ہے جو اپنے رب کی سب سے زیادہ اطاعت کرے اوراپنی آخرت کے لیے سب سے زیادہ عمل کرے۔والسلام علیک ورحمۃ اللہ ۔ اے معاذ بن جبل اب لوگوں کو میری جگہ آپ نماز پڑھائیں۔
اس کے بعد حضرت ابوعبیدہ ابن جراح وصال فرماگئے ،ان کی رحلت کے بعد حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ  کھڑے ہوئے اورآپ نے لوگوں سے ارشادفرمایا:
’’اے لوگوں تم اللہ کے سامنے اپنے گناہوں سے توبہ کرو،کیونکہ جو بندہ بھی اپنے گناہوں سے تائب ہوکر اللہ تعالیٰ سے ملے گا تو اللہ رب العزت کے ذمہ کرم پر اس کا حق ہوگا کہ اس کی مغفر ت فرمادے اور جس کے ذمہ قرض ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنا قرضہ جلدی اداکرے کیونکہ بندہ اپنے قرضے کی وجہ سے بندش میں رہے گا۔(اس کی ادائیگی کے بغیر اسے اللہ رب العز ت سے چھوٹ نہیں ملے گی)اور جس کسی نے اپنے مسلمان بھائی سے قطع تعلق کررکھا ہوتو اسے چاہیے کہ وہ اس سے مل کر صلح کرلے،اے مسلمانوں تمہیں ایک ایسے آدمی کی موت کا صدمہ پہنچا جس کے بارے میں مجھے یقین ہے کہ ان سے زیادہ نیک دل ،ان سے زیادہ شر اورفساد سے مجتنب رہنے والا،ان سے زیادہ عوام سے محبت کرنے والااوران سے زیادہ لوگوں کی خیرخواہی کرنے والا میںنے کوئی اورنہیں دیکھا لہٰذا کے لیے نزول رحمت کی دعاکرواوران کی نماز جنازہ میں شرکت کرو‘‘۔