ترغیب علم

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
ترغیب علم

جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کی علامات میںسے ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، (خوئے) جہالت پختہ ہوجائے گی ،شراب عام ہوجائے گی اور(ہر طرف) بدکاری پھیل جائے گی۔ (بخاری: عن انس رضی اللہ عنہ )مومن خیر (علم،عمل)سے کبھی سیر نہیں ہوتا،علم کی باتوں کو سن کرسیکھتا رہتا ہے (یہاں تک کہ اس کا آخری وقت آجاتا ہے)اوروہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔ (ترمذی:عن ابی سعید خدری رضی اللہ عنہ )جو میری اس مسجد میں محض خیر کی بات سیکھنے یا سکھانے کی نیت سے آئے تو اللہ تبارک وتعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی سی قدرومنزلت میں ہے اورجو اس کے علاوہ کسی اورمقصد سے آئے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو بس کسی دوسرے کے سازوسامان کو دیکھا رہا ہے۔ (ابن ماجہ:عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ ) جو شخص علم کی جستجو میں مشغول ہوجائے پھر اسے حاصل بھی کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دواجر تحریر فرمادیتا ہے ،اور جو شخص علم کا طالب تو ہو لیکن اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے تو اللہ کریم اس کے لیے بھی ایک اجر لکھ دیتا ہے۔(طبرانی، مجمع الزوائد :عن واثلہ رضی اللہ عنہ ) عالم کی موت ایسی مصیبت ہے جس کی تلافی ممکن نہیں اورایسا خسارہ ہے جو پورا نہیں ہوسکتا ،صاحب علم ایک ایسا ستارہ ہے جو (موت کے باعث)بے نور ہوگیا ،ایک پورے قبیلے کی موت ایک عالم کی موت سے کم درجہ کی ہے۔(بیہقی: عن ابی درداء رضی اللہ عنہ) علماء کی مثال ان ستاروں کی طرح ہے جن سے زمین کے خشک وتر ٹکڑوں کی ظلمتوں میں رہنمائی حاصل کی جاتی ہے ۔اگر ستارے بے نور ہوجاتے ہیں تو اس بات کا امکان بڑھ جاتا ہے کہ راستہ چلنے والے بھٹک جائیں۔(مسند احمد: انس بن مالک رضی اللہ عنہ ) سنو! دنیا اوردنیا میں جو کچھ بھی ہے وہ اللہ رب العزت کی رحمت سے دور ہے ۔البتہ اللہ تعالیٰ کا ذکر اوروہ جو اللہ تعالیٰ سے قریب کردیں، اعمال صالحہ، عالم اورطالب علم (کہ یہ سب اللہ کریم کی رحمت سے دورنہیں ہیں)۔(ترمذی:عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ) تم یا تو عالم ہو یا تو طالب علم ، یا علم کی باتوں پر کان دھرنے والے ،یا علم اورصاحبانِ علم سے محبت کرنے والے (ان چاروں کے علاوہ )پانچویں قسم کے (ہر گز)نہ بنوورنہ ہلاک ہوجائو گے ، (اوروہ )پانچویں قسم یہ ہے کہ تم علم اور حاملینِ علم سے بغض رکھنے والے ہوجائو۔(طبرانی:مجمع الزوائد ، عن ابی بکر رضی اللہ عنہ) علماء پر فوقیت حاصل کرنے ،احمقوں سے تکرار کرنے اورمجلس سجانے کی نیت سے علم حاصل نہ کرو جو شخص ایسا کرے گا اس کے لیے آگ ہے آگ۔(ابن ماجہ: عن جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ) اس شخص کی مثال جوعلم سیکھتا ہے لیکن دوسروں کو تعلیم نہیں کرتا، اس (بخیل) شخص کی طر ح ہے جو خزانہ توجمع کرتا ہے لیکن اس میں سے خرچ نہیں کرتا۔ (طبرانی:عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ)