تفسیر خاتم النبیین

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی

امام فخر الدین رازی آیت خاتم النبیین کی تفسیر میں لکھتے ہیں ”حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اورآپ کے بعد کوئی نبی نہیں ،اس لیے کہ اگر ایک نبی کے بعد دوسرا نبی آنا ہوتا تو وہ تبلیغ اسلام اوراحکام کی توضیع کا مشن کسی حد تک نا مکمل چھوڑ جاتا اورپھر بعد میں آنے والا اسے مکمل کرتا ،لیکن جس نبی کے بعد اورکوئی نبی نہ آنے والا ہو تو وہ اپنی اُمت پر بہت زیادہ شفیق ہوتا ہے اور ان کے لیے واضح اورقطعی ہدایت فرہم کرتا ہے کیونکہ اس کی مثال ایسے باپ کی طرح ہوتی ہے جو جانتا ہے کہ اس کے بعد اس کے بیٹے کی نگہداشت کرنے والا کوئی سرپرست اور کفیل نہ ہوگا“۔(تفسیر کبیر)
ابن جرید طبری رقم طراز ہیں ”اور آپ اللہ کے رسول ہیں اورخاتم النبیین ہیں جنہوں نے تشریف لاکر سلسلہ نبوت ختم فرمادیا ہے اور اس پر مہر ثبت فرمادی ہے اورقیامت تک یہ کسی کے لیے نہیں کھولی جائے گی ۔“
علامہ حافظ حماد الدین ابن کثیر تحریر کرتے ہیں ”پس اس آیت میں نصح صریح ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا کہ جب کوئی نبی نہ ہوا تو رسو ل بدرجہ اولیٰ نہ ہوگا کیونکہ مرتبہ رسالت، مرتبہ نبوت سے خاص ہے۔ہر رسول کا نبی ہونا ضروری ہے لیکن ہر نبی کا رسول ہونا ضروری نہیں ہے اوراسی پر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث متوترا وارد ہوئی ہیں جنہیں صحابہ کرام کی ایک کثیر جماعت نے آپ سے نقل کیا ہے ۔“
امام جلال الدین سیوطی تفسیر درمنثور میں لکھتے ہیں ”حضرت حسن بصری رحمة اللہ علیہ سے آیت خاتم النبیین کے بارے میں یہ تفسیر نقل کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاءکو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کردیا اور آپ ان رسولوں میں سے جو اللہ کی طرف سے مبعوث ہوئے آخری ٹھہرے ۔“
اور تفسیر جلالین میں رقم طراز ہیں ”اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے اوروہ آگاہ ہے کہ حضور سرور کائنات کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگااور حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ نازل ہونگے تو وہ حضور علیہ الصلوٰة والسلا م کی شریعت کے متبع اورپیروکار ہونگے۔“
مولانا بدر عالم میرٹھی ترجمان السنہ میں رقم طراز ہیں ”اب تک جتنے رسول آئے وہ صرف رسول اللہ تھے ،آپ رسول اللہ ہونے کے علاوہ خاتم النبیین بھی ہیں اس بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تصور کے لیے دوباتوں کا تصور ضروری ہے۔یہ کہ آپ رسول اللہ ہیں اوریہ کہ آپ خاتم النبیین بھی ہیں ۔آپ کے متعلق صرف رسول اللہ کا تصور آپ کی ذات کا ادھورا اور ناتمام تصور ہے بلکہ ان دوتصورات میں آپ کا امتیازی تصور خاتم النبیین ہی ہے ۔“