حضور اکرم ﷺ اور تواضع

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
حضور اکرم ﷺ اور تواضع

انسان کو اللہ رب العز ت نے تخلیق فرمایا ، اپنی زندگی میں اسے جتنے کمالات نصیب ہوتے ہیں،وہ سب اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل وکرم سے نصیب ہوتے ہیں ۔ لیکن انسان اپنی نادانی کی وجہ سے انھیں اپنا کسبِ کمال سمجھتا ہے۔ غرور وتکبر کو اپنا شعار بنالیتا ہے ۔کسی کو اپنے جیسا نہیں سمجھتا ۔ خدائے بزرگ وبرتر کو انسان کا یہ تکبر سخت نا پسند ہے قرآن نے بڑے واضح الفاظ میں تلقین فرمائی ۔

’’اور لوگوں سے (غرور کے ساتھ )اپنا رخ نہ پھیر اور زمین پر اکڑ کر مت چل بے شک اللہ بڑے متکبر ،اتراکر چلنے والے کو نا پسند فرماتا ہے‘‘۔(لقمان 18)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ کریم کی طرف سے معلم رشد وہدایت ہیں آپ نے انسانوں کو عاجزی اور تواضع کی تلقین فرمائی اور جملہ کمالات ظاہری وباطن سے متصف ہونے کے باوجود خود بھی ہمیشہ عاجزی اور تواضع کواختیار فرمایا ۔ آپ اللہ کے فرستادہ رسول ہیں۔ا ور ظاہر میں بھی آپ نے مملکت ِ اسلامیہ کی بنیاد رکھی ۔
صحابہ کرام جس انداز میں آپ کی پیروی کرتے، آپ کا احترام کرتے اور پروانہ وار آپ پر نثار ہونے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ، کسی بڑے سے بڑے دنیاوی بادشاہ کے دربار میں اس کی مثال نہیں مل سکتی جیسا کہ حدیبیہ کے موقع پر عرب کے مشہور سردار عروہ بن مسعود ثقفی نے اعتراف واظہار کیا۔
لیکن ان تمام باتوں کے باوجود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بے حد خلیق اور متواضع تھے۔ مزاج مبارک میں انتہائی سادگی تھی اپنے صحابہ کرام کے ساتھ گھل مل کر بیٹھتے اور اپنے لیے کسی مخصوص امتیازی نشست یا امتیازی نشان کی قطعاً کوئی ضرورت نہ سمجھتے نہ اس کی اجازت مرحمت فرماتے ۔غلاموں اور مسکینوں کے ساتھ بیٹھ جاتے ۔ ان کے ساتھ کھانا تناول فرمالیتے ،مجلس کے دوران کبھی آپ کو پائوں پھیلا کر بیٹھے ہوئے نہیں دیکھا گیا ۔ غریب سے غریب آدمی کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے ۔
امیرہو یا غریب بلاتفریق ہر ایک کی دعوت کو شرفِ قبول عطا فرمالیتے ۔ ہر قسم کی سواری حتیٰ کہ گدھے اور خچر پر بھی بخوشی سوار ہوجاتے اور دوسروں کو بھی اپنے ساتھ بٹھا لیتے ،بازار سے گھر کا سودا سلف خود خرید لاتے۔اپنے جانوروں کو بلا تکلف چارہ ڈالتے۔ انکے بدن پر تیل ملتے گھر کے روزمرہ کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے اور اپنے کاموں کو امکانی حدتک خود انجام دینے میں بڑی خوشی محسوس فرمایا کرتے تھے۔ اپنے لباس مبارک میں خود پیوند لگاتے حتیٰ کہ اپنا جوتا بھی گانٹھ لیاکرتے تھے۔ گھر کی صفائی ستھرائی بھی فرمالیتے اور جانوروں کا دودھ دوہ لیا کرتے تھے۔
ایک بارسفر میں جوتی کا تسمہ ٹوٹ گیا ،ایک صحابی نے درست کرنے کی پیش کش کی لیکن آپ نے فرمایا :نہیں یہ امتیازی بات مجھے پسند نہیں اور خود ہی جوتی کا تسمہ ٹانگا۔