فضائلِ ذکر(۱)

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی

علامہ ابن القیم الجوزیہ تحریر فرماتے ہیں اللہ تبارک وتعالیٰ کے ذکر الہٰی کے سو سے زائد فائدے ہیں ،ان میں سے کچھ فوائد درج ذیل ہیں :٭شیطان کو بھگاتا ہے اور اس کا قلع قمع کردیتا ہے۔ ٭ذکر سے رب راضی ہوجاتا ہے۔٭دل سے غم وحزن کو دور کردیتا ہے۔ ٭دل کی مسرت وفرحت کا باعث ہے ۔٭چہر ے اور دل کو منور کرتا ہے۔٭دل وبدن کو قوی کرتا ہے۔٭وسعت رزق کا باعث ہے۔٭ذاکر کو رعب ودبدبہ اورتازگی عطاکرتا ہے۔٭اس محبت کا سبب ہے جو روح اسلام ہے،اور دین کامرکز ہے ۔اور وسعت ونجات کا جس پر دارومدار ہے۔ ٭اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا کوئی نہ کوئی سبب بنایا ہے اوردائمی ذکر کو اپنی محبت کا سبب بنایاہے ۔ جو اللہ کی محبت کو حاصل کرنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ وہ اس کے ذکر میں مشغول ہوجائے ۔ اورذکر ہی محبت کا دروازہ ہے اوراس کی سب سے بڑی علامت اورمضبوط راستہ ہے۔ وہ ذاکر کو مراقبہ کا اہل بنادیتا ہے یہاں تک کہ اسے مقام احسان تک پہنچادیتا ہے ۔اللہ کے ذکر سے غافل کبھی بھی مقام احسان کو حاصل نہیں کرسکتا ،جس طرح آدمی ایک جگہ پر بیٹھ کر گھر نہیں پہنچ سکتا۔٭اور اللہ کی بارگاہ میں بکثرت رجوع کا سبب ہے ۔اور جو شخص ذکر کے ساتھ اس کی بارگاہ میں بکثرت رجوع کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ تمام احوال میں اس کے دل کو اپنی طرف مائل کردیتا ہے اور مصائب وآلام میں اس کے دل کا قبلہ وکعبہ اور ملجاﺅ ماوی خدا وند قدوس کی ذات ہی ہوتی ہے۔ ٭یہ رب قدوس کے قرب کا اہل بنادیتا ہے ۔اور جس قدروہ اس کا ذکر کرتا ہے اس قدر اسے قرب حاصل ہوتا ہے۔ ٭اس پر معرفت کا عظیم دروازہ کھل جاتا ہے جس قدر زیادہ ذکر کرتا ہے اسی قدر اسے معرفت خداوندی حاصل ہوتی ہے۔٭ذاکر پر اللہ تعالیٰ کی ہیبت اورجلال طاری کرتا ہے۔ بخلاف غافل کے کہ اس کے دل پر حجاب ہوتا ہے۔ حضرت ذوالنورین مصری رحمةاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا کا مزہ اس کے ذکر میں اورآخرت کا مزہ اس کے عفودرگزر میں اورجنت کا مزہ اس کے دیدار میں ہے۔“حضرت ابو سعید خراز رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :”اللہ تعالی نے اولیاءکرام کی ارواح کواپنے ذکر اورقرب کی لذت سے اوربدنوں کو اپنی مفید اورعمدہ نعمتوں سے نوازااور انہیں ہرشے کا وافر حصہ عطا فرمایا۔ان کی جسمانی زندگی اہل جنت کی مثل اورروحانی حیات ،ربانیین جیسی ہے۔“