حضور اور ایفائے عہد (۲)

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
حضور اور ایفائے عہد (۲)

جنگ بدر کا موقع تھا ۔کفار کا لشکرِ جرّار سامنے تھا۔ مسلمانوں کی تعداد بھی قلیل تھی اور سامان جنگ بھی بہت ہی محدود تھا ۔

اک فقط عزم سفر زاد سفر اپنا تھا
کبھی صحرائے تمنا میں سفرا پنا تھا
ایسے میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو حسیل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ،اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ ہم مکہ مکرمہ سے آرہے تھے،راستے میں ہم کفار کے نرغے میں آگئے تھے۔انھوں نے ہمیں گرفتار کرلیا۔لیکن مذاکرات کے بعد رہا کردیا اور شرط یہ عائد کی کہ ہم لڑائی میں آپ کے ساتھ شریک نہ ہوں۔ ہم نے بامرِ مجبوری عہد کرلیا۔، لیکن (یہ جنگ ہے)ہم کافروں کے لیے خلاف ضرور جہاد کریں گے۔ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں ہر گز نہیں تم اپنا وعدہ پورا کرو اور میدانِ جنگ سے واپس چلے جائو۔ ہم مسلمان ہیں اور ہر حال میں اپنا وعدہ پورا کریں ہمیں صرف اور صرف اللہ کی نصرت درکار ہے۔
٭حضرت عبد اللہ بن ابی الحسماء رضی اللہ عنہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مبارکہ سے پہلے کا ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں۔
’’میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک معاملہ طے کیا اور ان کو کہنا کہ آپ اسی جگہ تشریف رکھیے گا میں ابھی آکر حساب کردوں گا۔ آپ نے وعدہ فرمالیا۔ میں وہاں سے چلا آیا لیکن مجھے واپس جانا یا د ہی نہ رہا۔ تین دن کے بعد یا د آیا تو دوڑا دوڑا اس جگہ پر پہنچا جہاں میں آپ کو بٹھا کر آیا تھا۔ میںنے دیکھا کہ آپ اسی جگہ پر تشریف رکھتے ہیں۔ میں بڑا شرمسار ہوا اور معذرت کی حضور نے ارشاد فرمایا:میں تین دن سے یہاں پر تمہارا انتظار کررہا ہوں۔اگرچہ تم نے مجھے بڑی ایذاء دی لیکن میں تمہیں معاف کرتا ہوں اللہ بھی تمہیں معاف فرمائے۔
٭صلح نامہ حدیبیہ ہوا تو اس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ اگر مکہ مکرمہ کا کوئی شخص اسلام قبول کرلے اور مکہ سے مدینہ منورہ آجائے تو اہل مکہ کے مطالبہ پر اسے واپس مکہ بھیج دیا جائے گا۔ عین اس وقت جب یہ معاہدہ تحریر میں آیا۔ مکہ کا ایک نوجوان ابو جندل رضی اللہ عنہ پایہ رنجیر حالت میں ہا نپتے کانپتے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔انھیں خاندان والوں نے اسلام قبول کرنے کی پاداش میں قید کررکھا تھا ۔وہ کسی حیلے سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے اور مسلمانوں کے پاس پہنچ گئے۔ مسلماں نے ان کی حالت زار دیکھی تو تڑپ اٹھے اور ابو جندل کو اپنے پناہ میں لینے کے لیے بے تاب ہوگئے۔ لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے مخاطب ہوکر ارشاد فرمایا :اے ابو جندل ،صبر کر ہم اپنا عہد نہیں توڑ سکتے اللہ تبارک وتعالیٰ جلد ہی تیرے لئے رستگاری کی کوئی اور صورت پید ا کردے گا۔