استغفار

استغفار

٭حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم روایت فرماتے ہیں، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:ہر مرض کی کوئی دوا ہے اورگناہوں کی دوااستغفار ہے ۔(صحیح مسلم)
٭حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا میں تمہیں تمہارا مرض اوراس کی دوا نہ بتائوں ؟تمہارا مرض گناہ ہیں اور اس کی دوا استغفار ہے ۔ (دیلمی )
٭حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ،حضور نبی محتشم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:جس شخص نے استغفار کو اپنا معمول بنا لیا اللہ تعالیٰ اُس کو ہر تنگی سے نجات کا راستہ فراہم کردے گااوراس کی ہر مشکل آسان فرمادے گا۔اور اس کو وہاں وہاں سے رزق عطافرمائے گا جہاں سے اس کا گمان تک نہ ہوگا۔(ابودائود، ابن ماجہ)
٭حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (گناہوں سے کلیتاً محفوظ و مامون ہونے کے باوجود)  اللہ کی قسم! میں ہر روز ستر مرتبہ سے زیادہ بارگاہِ الہٰی میں استغفار کرتا ہوں ۔(صحیح بخاری)
٭حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:(جب شیطان کو قیامت تک زندہ رہنے کی مہلت مل گئی تو )شیطان نے کہا :اے پروردگار!تیری عزت وجلال کی قسم ،میں تیرے بندوں کو اس وقت تک بہکاتا رہوں گا جب تک روح ان کے جسموں میں موجود ہے۔اس پر پروردگار نے فرمایا:میری عزت وجلال کی قسم ، میںبھی جب تک وہ استغفار کرتے رہیں گے ان کی بخشش کرتا رہوں گا ۔(احمد ، مستدرک امام حاکم)
٭حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:دل بھی لوہے کی طرح زنگ آلود ہوجاتے ہیںاوران کو ازسرِ نوجلاء بخشنے والی چیز استغفار ہے۔(بیہقی)
٭حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں،میںنے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے گزارش کی کہ یارسول اللہ ! (میری طبیعت میں غصہ اور)زبان میں تیزی ہے ، اس پر آپ نے ارشادفرمایا:اے حذیفہ!تم استغفار کرنے سے کہاں رہ گئے(مجھے دیکھو ، عصمت و حفاظت کے باوجود )میں تو دن میں سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں ۔ (ابودائود ، ابن ماجہ)
٭حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:بہترین دعا استغفار ہے اور بہترین عبادت لاالہ الااللہ کہنا ہے۔(کنزالعمال)