اخوت (۳)

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
اخوت (۳)

٭حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’ ایمان والے ایک جسم کی طر ح ہیں اگر آنکھ کو تکلیف ہوجائے تو سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے۔ (مسلم )
٭حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم ارشادفرماتے ہیں ۔ تمہارا اپنے برادرِ (مسلم ) کے روبرو مسکرادینا بھی صدقہ ہے۔ تمہارا نیکی کی ترغیب دینا اور برائی سے منع کرنا بھی صدقہ ہے۔ تمہارا گم کردہ راہ کو صراطِ مستقیم دکھانا بھی صدقہ ہے ۔ کمزور نظر والے کی مدد کرنا (اسے مقام مقصود تک پہنچانا ) بھی تمہارے لیے صدقہ ہے۔ راستے سے پتھر ہٹا دینا اور ہڈی ہٹا دینا بھی صدقہ ہے اور اپنے ڈول سے نکال کر اپنے بھائی کے ڈول میں کچھ ڈال دینا بھی صدقہ ہے۔(ترمذی )
٭حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشادفرماتے ہیں ۔جب دو مسلمان آپس میں ملیں اور (پر خلوص) مصافحہ کریں تو ان دونوں کے جد ا ہونے سے پہلے ان کی بخشش کر دی جاتی ہے۔ (ترمذی )
٭حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ جس نے میر ے کسی امتی کی حاجت پوری کی اور اس کا ارادہ محض اسے خوش کرنے کا ہو(یعنی اپنی کوئی ذاتی غرض ، ریا ،شہرت نہ ہو)تو اس نے مجھے خوش کیا، (جان لو) جس نے مجھے خوش کیا ، اس نے اللہ کو خوش کیا اور جس نے اللہ کو خوش کردیا تو وہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔(بیہقی )
٭حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں جنابِ رسول اکر م صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو اپنے مسلمان بھائی کی عزت کی حفاظت کرتا ہے تو وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے ذمہء کرم پر ہے کہ وہ قیامت کے روز اس سے جہنم کی آگ کو دور رکھے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ’’اور ایمان والوں کی مدد کرنا ہمارے ذمہء کرم پر ہے۔‘‘ (شر ح السنہ )٭حضرت ابو موسیٰ اشعر ی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : بھوکوں کو کھانا کھلائو ، مریض کی عیادت کرو اور اپنے قیدی بھائی کو قید سے رہائی دلائو ۔(بخاری )
٭حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں۔حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تین آدمی ایسے ہیں جن کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ کا حق ہے (یعنی انسان یہ سمجھے کہ وہ حقوق اللہ میں سے ایک حق ادا کر رہا ہے ) ۔(۱) اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا ۔ (۲) غلام جو حق مکا تبت ادا کرناچاہتا ہے(یعنی جس نے اپنے آقا سے یہ معاہدہ کر لیا کہ میں اتنی رقم تجھے کماکر دوں گا اور آزاد ہوجائوں (آج کے دور کے قیدی جو جرمانہ کی عدم ادائیگی کی وجہ سے قید ہوں ) ۔(۳) اور نکاح کا وہ خواہش مند جو پاک دامنی پر قرار رکھنے کیلئے نکاح کرنا چاہتا ہو ۔(ترمذی ، نسائی ،ابن ماجہ)