اَل±صَّلَوةُ

اَل±صَّلَوةُ


”عبادت “کی تشریح سے ہم پر یہ حقیقت پوری طرح عیاں ہوگئی کہ یہ اللہ کے سامنے اعتراف عجز ہے۔ اپنی ذات کی خیالات کی، رائے کی نفی ہے۔ جب انسان اپنے خالق کا حکم مان لیتا ہے اور اس کی مرضی اختیار کرلیتا ہے ،اور اس کے بتائے ہوئے طرززندگی کو اپنا لیتا ہے تو وہ عبادت کی شاہراہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔
اس خالق کی حکمت نے اپنے محمود اعمال میں درجہ بندی فرمائی،کچھ اعمال ایسے ہیں جو مسلمانی کا خاص شعار قرار پائے، انکے بغیر ایمان اور اسلام کا تعارف ہی دشوار ہے۔ ان میں اہم ترین، نمایاں ترین اور سب سے زیادہ ضروری اور بنیادی عمل ”الصلوة “یعنی نماز ہے۔
”صلوٰة “کا لفظی معنی دعائ، تسبیح، رحمت یا رحم وکرم کی تمنا ہے درود پاک کو بھی صلوٰة کہا جاتا ہے کہ یہ بھی رحمت وکرم کی تمنا کا اظہار ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق صلوٰة ایک مخصوص اور معروف عمل ہے جو خاص اوقات میں اور مخصوص انداز سے ادا کیا جاتا ہے۔ صلوٰ ة یعنی نماز ارکانِ اسلام میں دوسرا اور عبادات میں پہلا رکن ہے۔ اس کی بجاآوری ہر باشعور، بالغ مسلمان (عورت ہو یا مرد) پر فرض ہے۔“ (عقائد ارکان )
”نماز کیا ہے مخلوق کا اپنے دل زبان اور ہاتھ پاﺅں سے اپنے خالق کے سامنے بندگی اور عبودیت کا اظہار ،اس رحمان اور رحیم کی یا داور اس کے بے انتہاءاحسانات کا شکریہ، حسنِ ازل کی حمد وثنا ءاور اس کی یکتائی اور بڑائی کا اقرار، یہ اپنے آقاءکے حضور میں جسم وجان کی بندگی ہے، یہ ہمارے اندرونی احساسات کا عرضِ نیاز ہے۔ یہ ہمارے دل کے ساز کا فطری ترانہ ہے۔ یہ بے قرار روح کی تسکین مضطرب قلب کی تشفی اورمایوس دل کی آس ہے۔یہ فطرت کی آواز ہے اور یہ زندگی کا حاصل اور ہستی خلاصہ ہے۔ کسی غیر مرئی طاقت کے آگے سرنگوں ہونا، اس کے حضور میں دعاءفریا د کرنا اور اس سے مشکل میں تسلی پانا۔ انسان کی فطرت ہے ۔ قرآن نے جابجاانسانوں کی اسی فطری حالت کا نقشہ کھینچا ہے اور پوچھا ہے کہ جب تمہارا جہاز بھنور میں پھنستا ہے تو خدا کے سوا کون ہوتا ہے جس کو تم پکارتے ہو۔ غرض انسان کی پیشانی کو خودبخود ایک مسجود کی تلاش رہتی ہے۔ جس کے سامنے وہ جھکے ۔ اندرونِ دل کی عرض نیاز کرے اور اپنی دلی تمناﺅں کو اس کے سامنے پیش کرے ۔غرض عبادت روح کے اسی فطری مطالبہ کا جواب ہے“۔ (سیرت النبی)
اسلام کا اعجاز یہ ہے کہ اس نے انسان کو در در پر بھٹکنے سے بچا لیا۔ توحید کا واضح اور غیر مبہم سبق پڑھایا بندگی کا خوبصورت طریقہ سکھایا، جسے کو نماز کہتے ہیں۔
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
(اقبال)