سورة بقرہ کے مضامین (15)

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
سورة بقرہ کے مضامین (15)

مدینہ منورہ کے یہودیوںکا طرز عمل: اللہ تعالیٰ نے یہود سے اس بات کا ہو¿پختہ عہد لیا تھا کہ وہ ایک دوسرے کو قتل نہیں کرینگے، نہ ایک دوسرے کو گھروں سے لے دخل کرینگے، اس عہد کی پاسداری مدینہ کے یہودیوں پر لازم تھی، لیکن وہ یہاں آکر اوس اور خزرج کی باہمی لڑائیوں میں فریق بن گئے، بنو قینقاع، خزرج کے حلیف ہو گئے، بنو نضیر اور بنو قریظہ اوس کے، جنگ ہوتی تو یہود بھی ان حلیفوں کےساتھ ملکر ایک دوسرے کو قتل کرتے اور گھروں سے بے دخل بھی جب جنگ اختتام پذیر ہو جاتی تو، بنو نضیر اور بنو قریظہ کے جو لوگ خزرج کی قید میں ہوتے انکو بنو قینقاع فدیہ دےکر چھڑا لیتے اور بنو قینقاع کے جو لوگ اوس کی قید میں ہوتے انھیں دوسرے دو قبیلے فدیہ دےکر آزاد کراتے، اورجب ان سے کہا جاتا کہ تم فریق مخالف کے قیدیوں کو فدیہ دے کر کیوں چھڑا رہے ہو، تو کہتے کہ ہمیں تورات میں یہی حکم دیا گیا ہے کہ قیدیوں کو فدیہ دے کر چھڑائیں، اور اگر ان سے یہ استفسار کیا جاتا کہ تورات میں تو یہ بھی درج ہے کہ تم ایک دوسرے کو نہ تو قتل کرو اور نہ گھروں سے بے دخل؟ تو کہتے کہ ہم تو اپنے حلیف سے کئے ہوئے عہد کی پاسداری کرتے ہیں یعنی مشرکوں سے کئے ہوئے عہد کو نبھاتے ہیں اور اللہ تبارک وتعالیٰ سے کئے ہوئے عہد کو توڑتے ہیں۔ حضور اکرم سرور کائناتﷺ سے دعاکرنا اور نکار بھی کرنا: حضرت عبداللہ ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ یہود اوس اور خزرج کےخلاف جنگ میں جناب رسالت مآب سرور کائناتﷺ کی بعثت سے پہلے آپکے وسیلے سے فتح و کامرانی کی دعاءکیا کرتے تھے لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ آپکو عرب میں مبعوث کر دیا تو جو کچھ وہ آپکے بارے میں اپنی کتابوں کے حوالے سے کہا کرتے تھے، اس سے صاف مکر گئے، ایک دن حضرت معاذ بن جبلؓ اور حضرت بشر بن البرا¿ بن معرورؓ نے ان سے کہا اے یہودیوں اللہ کا خوف کرو اور اسلام لے آﺅ جب ہم مشرک تھے تو تم ہمارے خلاف حضرت سیدنا محمد رسول اللہﷺ کے وسیلہ سے فتح کی دعا کرتے تھے اور تم لوگ ہی ہمیں یہ خبر دیتے تھے کہ وہ بنی (عنقریب) مبعوث ہونےوالے ہیں اور تم اس بنی کے وہی اوصاف بیان کرتے تھے جو آپکی ذات اقدس میں واقعی موجود بھی ہیں، اسکے جواب میں بنو نضیر کے سلام بن شکم نے کہا وہ کوئی بات نہیں لے کر آئے جسے ہم پہنچانتے ہوں یہ وہ بنی نہیں ہیں جنکا ہم تمہارے سامنے تذکرہ کیا کرتے تھے (ابن جریر) اسطرح وہ دانستہ حق کو چھپاتے، اسی سورہ میں کہا کہ وہ حضور اکرمﷺ کو اسی طرح پہنچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو۔ حضرت جبرئیلؑ سے خصوصی عداوت: یہود ایمان کے بارے میں بھی خود ساختہ نظریات کے حامل تھے، جب وہ سنتے کہ جبرئیلؑ وحی لاتے ہیں تو کہتے کہ جبرئیل تو ہمارا دشمن ہے کیونکہ ہماری بستیوں پر اسی کے ذریعے عذاب اتارا گیا، انھیں کہا گیا کہ حضرت جبرئیلؑ کی دشمنی تو اللہ سے دشمنی کے مترادف ہے کیونکہ وہ تو اللہ تبارک و تعالیٰ کے احکام و فرامین کے پابند بھی ہیں اور امین بھی ۔