حیوانیت کا روحانی علاج

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی

امام شاہ ولی اللہ رحمة اللہ علیہ رقم طراز ہیں ،بعض اوقات انسان میں ایک گونہ بیداری پیدا ہوتی ہے جو اس کے باطن کو منور کردیتی ہے ۔اس نور کی وجہ سے اس کو یہ نظر آنے لگتا ہے کہ اس کے اندر کی حیوانیت (قوت بہیمیہ)کی شدت اوراس کا ہیجان منزل مقصود تک رسائی میں حائل ہے ۔اگر اس نے اس کی اصلاح نہ کی تو اس کی مغلوب روحانیت (ملکیت)کسی طرح بھی اپنے جوہر دکھا کراس کو کمال مطلوب تک نہیں پہنچاسکتی اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بہیمیت کے ہیجان اوراس کے غلبے کو اچھا نہیں سمجھتااور چاہتا ہے کہ کسی طرح اس کے آ ہنی پنجے سے نجات حاصل کرے ،اس کا سب سے بہتر علاج انسان کے ذہن میں یہ آتا ہے کہ وہ بھوکا پیاسا رہے اور صنفی تعلقات سے کنارہ کش ہوجائے اور اپنے دل وزبان اور دیگر اعضاءوجوارح کو گناہ کی آلودگیوں سے بچائے رکھے۔دوسرا درجہ اس شخص کا ہے جو اپنے ایمان اور اپنی شہادت قلبی کی وجہ سے اس کو مخبرصادق یعنی اللہ کے پیغمبر وں اخذ کرتا ہے ۔تیسرا وہ ہے جس کے ساتھ انبیائے کرام علیہم السلام ہمدردی کرکے اس کو ایسا کرنے کی ترغیب دیتے ہیں تاکہ وہ روزہ جیسے جلیل القدر کام کے فائدوں سے محروم نہ رہ جائے ۔گووہ سرِ دست اس کی خوبیوں کو نہیں سمجھتا لیکن آخرت میں پہنچ کر انسان پر اس کی فضیلت اورحقیقت منکشف ہوجائے گی ۔بعض اوقات انسان یہ جانتا ہے کہ اگر اس کی طبیعت عقل کے تابع ہوجائے اوروہ خیر کی باتوں پر عمل کرے تو یہ اس کے حق میں بہتر ہے اور یہ التزام اسے کمال تک پہنچادے گا،لیکن یہ جاننے کے باوجود انسان کی طبیعت میں ایک سرکشی اوربغاوت بھی ہوتی ہے اس لیے کبھی تو اس کی حیوانیت روحانیت کے تابع ہوتی ہے اور بعض اوقات اس کی طبیعت ملکیت کا اقتضاءپورا کرنے سے گریز کرتی ہے ۔ایسے شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی مشکل عمل کی پابندی کرے ،جس کی مثال روزہ رکھنا ہے۔انسان کو چاہیے کہ تکلف سے اپنے آپ کو اس کا پابند رکھے حتیٰ کہ اس کے اندر کی حیوانیت اس کی باطن کی روحانیت سے مغلوب ہوجائے اس کی اطاعت کرے اور اپنی سرکشی چھوڑدے۔بعض اوقات انسان کسی نافرمانی کا ارتکاب کربیٹھتا ہے اور اس کا علاج وہ یہ تجویز کرتا ہے کہ تلافی کے طور پر کافی دنوں تک روزہ رکھے تاکہ پھر وہ کسی ایسی ناشائستہ حرکت کا مرتکب نہ ہو۔بعض صورتوں میں انسان پر نفسانی وصنفی خواہشات غالب ہوتی ہیں لیکن اس کے لیے کسی وجہ سے ازدواجی زندگی گزارنا ممکن نہیں ہوتا لیکن مجرد رہنے کی صورت میں اس کو یہ خوف ہوتا ہے کہ وہ کسی گناہ میں مبتلا نہ ہوجائے ،اس کا علاج بھی یہی ہے کہ وہ بکثرت روزے رکھے ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے حالات میں یہی علاج تجویز فرمایا ہے۔(حجة اللہ البالغہ)