خلیل اللہ کی ہجرت

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مسلسل تبلیغ اور توحید باری پر ان کے ناقابل تردید دلائل کے باوجود نمرود اور اسکی رعایا کو ایمان کی توفیق نصیب نہ ہوئی،نمرود اور بت کدے کے پجاریوں نے اپنے سیاسی اور نام نہاد مذہبی مفادات پر زد پڑتے دیکھی تو ،ایک آتش کدہ بھڑکانے کا حکم دیا۔حکم شاہی کی فوراً تعمیل کی گئی ،آپ کی مشکیں کس دی گئیں ،آپ کومنجنیق میں باندھ کرآتش کدے میں پھینکنے کے منصوبے کو آخری شکل دی جانے لگی ۔اللہ تعالیٰ کے اذن سے حضرت جبرئیل بارگاہِ خلیل میں حاضر ہوئے اورخدمات پیش کیں ،آپ نے بڑی بے نیازی سے جواب دیا:اماالیک فلا،کفا نی علمہ بحالی حسبی عن سو¿الی مجھے تیری امداد کی ضرورت نہیں ،اللہ مجھے کافی ہے جب وہ میرے حالات کو جانتا ہے تو پھر سوال کرنے کی کیا ضرورت ہے ،جب آپ کو آتش کدے میں پھینکاگیا ،اب وہاں آگ کے سرخ انگارے نہیں تھے بلکہ گلاب کے پھولوں کے ڈھیڑ لگ رہے تھے۔بھسم کرنیوالے شعلے نسیم صبح بہار میں تبدیل ہوگئے ۔اتنے بڑے معجزے کو دیکھنے کے باوجود نمرود ایمان نہ لایابلکہ آپ کی اذیت رسانی میں اضافہ کردیاتو اللہ نے اسکو ایک حقیر مچھر کے ذریعے ہلاک کردیا۔اس واقعہ کے بعد آپکی شادی حضرت سارہ بنت ہاران سے ہوئی جو آپ کی چچا زاد بہن تھیں۔(تاریخ طبری)جب حضرت ابراہیم اورانکے پیروکاروں کی مختصر جماعت کے لیے نمرود کی مملکت میں زندگی گزارنا انتہائی دشوار ہوگیاتو آپ نے وہاں سے ہجرت کا ارادہ فرمایا۔ان کی پہلی منزل حاران تھی ،پھر وہاں سے رختِ سفر باندھا اورشام وفلسطین سے ہوتے ہوئے مصر پہنچے،وہاں اس وقت فراعنہ کے پہلے خاندان کاایک فرعون حکمران تھا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت سارہ کو حسن سیرت کے ساتھ حسن صورت سے بھی نوازا تھا جب فرعون کو آپکے بارے میں خبر ہوئی تو اس نے آپ کو چھین لینے کا قصد کیا،حضرت سارہ کو اپنے محل میں طلب کیا لیکن جب بدنیتی سے اُن کی طرف ہاتھ بڑھایا تو وہ اسی وقت خشک ہوگیا ،یہ دیکھ کر اُسکے ہوش اُڑ گئے اوراس نے بڑی عاجزی سے حضرت سارہ سے معافی مانگی اورکہنے لگا کہ خدا سے دعا مانگوکہ وہ مجھے معاف کردے میرے بازوکو درست کردے ،آئندہ میں ایسی جسارت ہرگزنہیں کروں گا۔ آپ نے دُعا فرمائی کہ اے اللہ !اگر یہ سچا ہے تو اس کے ہاتھ کودرست کردے ،اس کا ہاتھ اُسی وقت درست ہوگیا۔ بادشاہ نے آپکی پاکیزگی اورروحانیت سے متاثر ہوکر اپنی بیٹی ”ہاجرہ “کوآپ کی خدمت کیلئے بطور کنیز وقف کردیا۔حضرت سارہ نے اُنھیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں پیش کردیا اورآپ نے اُن سے نکاح فرمالیا یوں حضر ت ہاجرہ بھی آپ کی زوجیت میں آگئیں۔کچھ دنوں کے بعد آپ فلسطین کے ایک مقام ”السبع“میں تشریف لے آئے،وہاں کے باشندوںنے تنگ کیا توآپ اسے چھوڑ کررملہ اورایلیا کے درمیان ”قط“نامی آبادی میں قیام پذیر ہو گئے ۔