قطرے سے گہر ہونے تک

قطرے سے گہر ہونے تک


بعثت نبوت کے چھٹے سال کا واقعہ ہے کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حمزہ شکار سے واپس لوٹے تو گھروالوں نے انہیں بتایاکہ آج ابوجہل نے آپ کے بھتیجے سے بڑی بد تہذیبی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ حمزہ اگر چہ ابھی اسلام نہیں لائے تھے لیکن نبی محترم علیہ الصلوة والتسلیم سے بڑی محبت رکھتے تھے ۔ آپ نے یہ سنا تو بڑے غصے میں آگئے ۔اپنی کمان لے کرابوجہل کے پاس گئے تو جو اُس وقت مسجد ِ حرام میں تھااورآپ نے کمان اٹھا کر اس زور سے اس کی گردن پر ماری کہ،اس پر زخم آگےااور خون بہنے لگا ۔قریش فوراً بچ بچاﺅ کرانے کے لیے آگے بڑھے اور جھگڑا بڑھنے کے خوف سے صلح کروادی ۔ حضور اس وقت دارِارقم میں تھے۔ حمزہ وہاں پہنچے اور کہا”اے بھتیجے ! میں آپ کا بدلہ اتا ر آیا ہوں“۔حضور نبی رحمت نے ارشاد فرمایا :”چچا! مجھے ان باتوں سے خوشی نہیں ہوتی، میری خوشی تو آپ کے ایمان میں ہے“۔ آپ نے یہ بات اتنے خلوص اور اتنی دلسوزی سے فرمائی کہ حمزہ گھائل ہوگئے ، اور انھوں نے وہیں پر اپنے ایمان کا اعلان کردیا ۔ کفر پر ےہ خبربجلی بن کر گری۔ اس کے تےسرے دن ابو جہل نے کفار کا اےک مجمع اکٹھا کر لےا اور اے قرےشےو! تمہاری غےرت کو کےا ہوگےا ہے، تےن دن ہوگئے حمزہ بھی ہمارے دےن سے نکل گےا ہے۔ کون ہے جو اس فتنے کا خاتمہ کرے ۔ مےں اسے سو سرخ اونٹ انعام مےں دوں گا۔ قبےلہ بنو عدی کاجوان عمر جو اب تک غلط فہمی کا شکار تھا۔ بڑے غصے مےں آگےا،تلوار سونت لی اور کہاجب تک محمد (صلی اللہ علےہ وسلم ) کا خاتمہ نہےں کر لےتا اس وقت تک زمےن پر نہےں بےٹھوں گا۔ اسی عالم جلال مےں آگے بڑھے تو راستے مےں نعےم بن عبداللہ مل گئے۔ انھےں عمر کے ارادے کی خبر ہوئی تو کہنے لگے :پہلے اپنے گھر کی خبر تو لو تمہارے بہن اور بہنوئی دونوں مسلمان ہوچکے ہےں۔ ےہ سنا تو بہنوئی سعےد بن زےدکے گھر کا رُخ کےا۔ حضرت خباب بن الارت انھےں قرآن کی تعلےم دے رہے تھے۔ وہ عمر کی آواز سن کر کمرے مےں چلے گئے ےہ جاتے ہی بہنوئی سے الجھ پڑے بہن فاطمہ آگے بڑھی تواسے بھی زناٹے دار تھپر رسےد کردےا۔ لےکن اس نے صاف صاف کہہ دےا کہ جو دعوت ہم قبول کر چکے ہےں اس سے سرموانحراف نہےں کرےں گے۔ ےہ استقامت عمر کے لےے بڑی حےران کن تھی۔ کہنے لگے وہ کلام سناﺅ جو تم پڑھ رہے تھے۔ بہن نے سورہ طہٰ کی ابتدائی آےات تلاوت کرنی شروع کیں ،انھےں سن کر عمر کے دل کی دنےا ہی بدل گئی ۔ آنکھ سے آنسورواں ہوگئے۔ کہا ےہ کلام برحق ہے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علےہ وسلم کی خدمت مےںلے چلو ۔ خباب نے ےہ سنا تو باہر آگئے ،کہنے لگے عمر مبارک ہو تےن دن سے حضور تمہارے اسلام کے لےے دعائےں مانگ رہے ہےں۔ دار ارقم مےں حضور کی خدمت مےں حاضر ہوئے،اور سعادت اسلام حاصل کی ،اس وقت جبرئےل علےہ السلام حاضر ہوئے، مبارک دی اور کہا: ےا رسول اللہ صلی اللہ علےہ وسلم مکےنانِ سموات بھی عمر کے اسلام لانے پر خوشی کا اظہا ر کر رہے ہےں ۔(ابن ماجہ، مستدرک )