یومِ حساب کی حاضری

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
یومِ حساب کی حاضری

سلیمان بن عبدالملک ایک دفعہ مدینہ منورہ حاضر ہوا اور حضرت ابو حازم رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی عدالت میں حاضر ہونے کی کیا صورت ہو گی؟ ابوحازم نے جواب دیا۔ نیک آدمی اس صورت میںحاضر ہو گا جیسے کوئی آدمی تجارت کی غرض سے دور دراز سفر پر گیا اور کافی عرصہ کے بعد بہت سا منافع لے کر گھر واپس آیا تو اہل خانہ اس کو دیکھ کر خوش ہیں اور وہ اہل خانہ کو دیکھ کر خوش ہے یعنی دونوں ایک دوسرے کی ملاقات اور کامیاب تجارت پر خوش ہیں۔اسی طرح قیامت کے دن نیک آدمی اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو دیکھ کر اور اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی نیکیوں پر خوش ہو گا ایسا خوش نصیب جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو گا۔ اور برا آدمی اس صور ت میں حاضر ہو گا جیسے کوئی غلام اپنے مالک کی چوری کر کے بھاگ گیا ہو اور مالک نے اس کی گرفتاری کے لئے پیادے روانہ کئے ہوں اور وہ اس چور غلام کو پکڑ کر لے آئیں اب غلام اپنی حماقت پر شرمندہ ہے اور مالک اس کی نمک حرامی پر غضب ناک ہے ۔ اسی طرح قیامت کے دن بُرا آدمی اپنی حماقتوں پر شرمندہ ہو گا اور اللہ تعالیٰ اس کی نمک حرامی پر غضب ناک ہو گا۔ ایسا بے وقوف جہنم کے عذاب میں مبتلا ہو گا۔ اس دوران سلیمان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور کہنے لگا کیا ہی اچھا ہوتا کہ میں اپنا حال جان لیتا کہ ان دونوں صورتوں میں سے کس صورت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے میری پیشی ہو گی؟ ابو حازم نے کہا۔ یہ معلوم کرنا بالکل آسان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’بے شک نیک لوگ (جنت کی) نعمتوں میں ہوں گے اور بُرے لوگ دوزخ ( کے عذاب) میں ہوں گے۔‘‘ (قرآن ۸۲:۱۴۔۱۳) اب تم خود ہی اپنے اعمال کا جائزہ لے لو کہ آیا تم نیک لوگوں میں سے ہو یا بُرے لوگوں میں سے؟ سلیمان نے کہا۔ اگر انجام کار اعمال پر منحصر ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت کس لئے ہے؟ اس پر ابو حازم نے فرمایا۔ اس سوال کا جواب بھی قرآن سے پوچھ لو۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ’’بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک لوگوں کے قریب ہے۔‘‘ (قرآن: ۷: ۵۶) یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مستحق بنانے کے لئے بھی نیک کاموں اور نیک لوگوں کی صحبت ومجلس ضروری ہے۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ دوزخ کی آگ سے بچو اگر چہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے عوض سے ہو اور اگر یہ نہ پائو تو اچھی گفتگو کرنے سے ۔‘‘ ( بخاری) کیونکہ ’’ اچھی گفتگو صدقہ ہے۔‘‘ ( بخاری) ’’بے شک صدقہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو ٹھنڈا کر دیتا ہے اور انسان کو برے انجام سے بچا لیتا ہے۔‘‘ (ترمذی) ’’اور صدقہ گناہ کو اس طرح مٹا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔‘‘ (ترمذی) نیز حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نیکی میں سے کچھ بھی حقیر نہ سمجھو اگر چہ تو اپنے بھائی کو خندہ پیشانی سے ملے۔‘‘ (مسلم) کیونکہ’’تیرا اپنے بھائی کے سامنے مسکرانا بھی تیرے لئے صدقہ کا درجہ رکھتا ہے۔‘‘ (ترمذی)