تقویٰ کے مراتب

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی

امام محمد غزالی” تقویٰ “کی مزید تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں،تقویٰ کے تین مراتب ہیں ۔شرک سے بچنا، بدعت سے بچنااور گناہوں سے بچنا۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ تینوں مرتبے ایک آیت میں بیان فرمادیے ،
”ان لوگوں پر کوئی گناہ نہیں اس میں جو انھوں نے کھایا جبکہ وہ تقویٰ اختیار کریں ،ایمان لائیں اور اعمال صالحہ بجالایںپھر تقویٰ اختیار کریںاور ایمانلائیںپھر تقویٰ اختیار کریں اور احسان کی راہ اختیار کریں“۔
اس آیہ مبارکہ میں پہلے تقویٰ سے مراد ہے ،شرک سے پرہیز کرنا اورایمان سے توحید مراد ہے۔دوسرے سے بدعت سے اجتناب اور اس کے مقابل ایمان سے صحیح اسلامی عقائد ونظریات کا اقرار و اعتراف اور پیروی سنت مراد ہے اور تیسرے تقویٰ سے مراد ہے صغیرہ گناہوں سے بچنا اور اس کے مقابل احسان سے طاعت اور استقامت مراد ہے۔اس وضاحت سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اس آیت میں تقویٰ کے تینوں درجے بیان کردیے گئے ہیں،یعنی مرتبہ ایمان ،مرتبہ سنت اور اطاعتِ خداوندی پر استقامت ۔
تقویٰ کا ایک اور معنی بھی ہے اور یہ معنی نبی کریم علیہ الصلوٰة والتسلیم کی ایک مشہور حدیث مبارکہ میںمروی ہے ۔
 ”متقیوں کو متقی اس لئے کہا گیا ہے کہ انھوں نے اس کام کو بھی ترک کردیا جس میں شرعاً کوئی حرج نہیں، یہ احتیاط کرتے ہوئے کہ اس (رخصت)کے ذریعہ سے وہ ایسے کام میں نہ پڑجائیںجس میں حرج اورگناہ ہو“۔
مناسب محسوس ہوتا ہے کہ حدیث پاک میں تقویٰ کے وارد شدہ معنی اور علماءکرام کی بیان کردہ تشریح کو جمع کردیا جائے تاکہ تقویٰ کے مکمل اورپورے معنی بیان ہوجائیں۔توتقویٰ کے جامع معنی یہ ہوئے ”ہر اس شے اورکام سے اجتناب کرنا جس سے دین کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو“۔
تم جانتے ہو کہ بخار میں مبتلا شخص جب ہر اس چیز سے پرہیز کرے جو اس کی صحت کے لیے مضرہو ،جیسے کھانا پینا اورپھل وغیرہ (اگرچہ وہ لذیذبھی ہوں اور دوسروں کے لیے فائدہ مند بھی )تو اسے اصل پرہیز کرنے والا کہتے ہیں۔اسی طرح جو شخص ہر خلاف شرح کام سے اجتناب کرے تو ایسا شخص کی درحقیقت متقی کہلانے کا حق دار ہے۔ (منہاج العابدین)