کسب ،رزق،برکت(۱۱)

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
کسب ،رزق،برکت(۱۱)

٭حضورمحسن انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : جس انسان کوتقویٰ (کی دولت ) نصیب ہوجائے اس کیلئے دُنیا اورآخرت کی بھلائی اورنعمتوں کے دروازے کُھل جاتے ہیں ، تقویٰ انسان کے بے حساب رزق دلاتاہے اوروہاں سے دلاتاہے جہاں اسکا گمان بھی نہیں پہنچتا (کنزالعمال)
٭اے لوگو!تقویٰ کواپنی تجارت بنالو ، تمہارے پاس ہرطرف سے رزق آنے لگے گا بغیر کچھ (ناجائز ) خرچ کیے اوربغیر کسی (ممنوع )کاروبار کے ، پس تقویٰ خود ہی تمہیں رزق دلائے گا اوربے حساب دلائے گا (طبرانی )
٭جوشخص کسی کو اپناحق معاف کرے اللہ تبارک وتعالیٰ اسے ضرور جزا دیتاہے اوراس کی عزت بڑھادیتاہے (صحیح مسلم )
٭ بندہ اپنی زندگی میںاپنا کوئی حق محض اللہ کی رضا کے لیے چھوڑدے تواللہ تعالیٰ اسے یقینا دُنیاہی میں اس سے بہت بہتر چیز عطا کردیتاہے جواسکی دُنیا کوبھی کفایت کرتی ہے اوردین کوبھی (ابن عساکر )
٭ نیکی اورنیک انسان سے صحبت کرو اس ذات کی قسم جس کے قبضہ ءقدرت میں میری جان ہے بے شک نیکی اور نیک لوگوں سے محبت کرنے میں برکت بھی ہے اورسلامتی بھی (کنزالعمال )
٭ اللہ تبارک وتعالیٰ کے ہاں سب سے پسند یدہ عمل یہ ہے کہ انسان اپنے مسلمان بھائی کے دل کوخوشی پہنچائے یااسکی کوئی پریشانی دُورکرے ،قرض کی ادائیگی اسکی مدد کرے یا اس تکلیف دُور کرے ،بھوک میں اسے کھانا کھلائے یااس کی غیر حاضری میں اسکے گھر کی دیکھ بھال کرے ۔(ابن ابی الدینا )
٭ بندہ جب تک اپنے مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرنے میں مشغول رہتاہے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی حاجتیں پوری کرتارہتاہے ،اسے اپنی رحمتوں سے نوازتاہے اس کی دُنیا اورآخرت دونوں کوبہتر بنادیتاہے۔ (صحیح مسلم )
٭ امانت اوردیانت کواپنی عادت بنا لو بے شک امانت بندے کی وہ صفت ہے جواس فقروافلاس سے محفوظ رکھیتی ہے اوراس کی طرف رزق کھینچ کرلاتی ہے۔ (دیلمی )
٭اے تجارت کرنے والو ایک بات بغور سُن لو تمہارے کاروبار کی بنیاد ایک ایسی چیز پرہے ، جس میں تم سے پہلی امتوں نے کوتاہی کی ، اور صرف اس کوتاہی کی وجہ سے ان کا نام ونشان مٹادیاگیا ، اوروہ چیز ہے ناپ اورتول ،( دھیان رکھنا ) کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی ناپ تول میں بے احتیاطی کی وجہ سے برباد کردیے جاﺅ (بخاری ومسلم )
٭جب بھی کسی چیز کوفروخت کرنے کے لیے تولنے لگو توہمیشہ جھکتاہوا تولو ،گاہک کوتھوڑازیادہ دے دو اس میں تمہارا کوئی نقصان نہیں بلکہ اللہ تم سے خوش ہوگا اورتمہارا رزق بڑھادے گا ۔ (ابن ماجہ )