کھانے ،پینے میں اِعتدال

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
کھانے ،پینے میں اِعتدال

٭حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن ایک آنت سے کھاتا ہے۔ اور کافر سات آنتوں سے (مسلم ،امام مالک،امام جلال الدین سیوطی نے اسے حدیث متواتر قراردیا ہے)٭حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مہمان آیا جو کافر تھا آپ نے حکم دیاکہ بکر ی دوہ کر اسے دودھ پلائو ،وہ یکے بعد دیگرے سات بکریوں کا دودھ پی گیا۔ جب صبح ہوئی تو اس نے اسلا م قبول کر لیا آپ نے حکم دیا اس کے لیے ایک بکر ی دوہی جائے ،جب اس نے اس کا دودھ پی لیا تو آپ کے ارشاد کے مطابق دوسری بکری دوہی گئی،مگر وہ اس کا دودھ پورا نہ پی سکا،جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مومن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں ۔(بخاری، دارمی ،احمد)٭حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ایک شخص کا کھانا دو کے لیے اور دو کا چار کے لیے اور چار افراد کا کھانا آٹھ کے لیے کافی ہوتا ہے۔ (ترمذی ، موطا ،امام مالک)٭حضرت عائشہ صدیقہ ارشاد فرماتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی لگاتار تین دن تک سیر ہوکر کھاناتناول نہ فرمایا یہاں تک کہ آپ اپنے خالق ومالک سے جاملے۔(ابن ماجہ)٭حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وصال مبارک تک کبھی دن میں دوبار سیر ہوکر کھانا نہیں کھایا۔(ترمذی)نوٹ:ان روایات میں سیر ہوکر کھانے سے مراد حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے معمول کا معتدل کھانا مراد ہے ، جس کی وضاحت احادیث مبارکہ میں موجود ہے)۔ ٭ حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی انسان نے اپنے پیٹ سے بڑھ کرکوئی برابر کبھی نہیں بھر ا ابن آدم کو چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھ سکیں ۔ اگر ضروری کھانا ہے تو (معدے کا) ایک حصہ کھانے کے لیے، ایک حصہ پانی کے لیے اور ایک حصہ سانس لینے کے لیے (رکھا جائے) ۔(ترمذی،موطاامام مالک)٭حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نبی آدم کے کھانے پینے کی دنیاوی مثال اس کے فیصلے سے ظاہر ہے۔ اگر وہ کھانے کو خوب لذیذ اور مصالحے دار بناتا ہے تو اسے اسکے انجام کی بھی خبر ہونی چاہیے۔ (احمد،طبرانی)٭حضرت وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ کے جد امجد فرماتے ہیں کہ اصحاب رسول نے عرض کی یا رسول اللہ ہم کھاتے ہیں مگر سیر نہیں ہوتے ۔آپ نے فرمایا :تم لوگ الگ الگ ہوکر کھاتے ہوگے۔ انھوں نے عرض کیا ہاں! فرمایا ۔کھانا اکٹھے کھایا کرو، اس پر اللہ کا نام لیا کرو۔اس میں اللہ تمہارے لیے برکت فرمائے گا۔(ابن ماجہ۔ مسند امام احمد بن حنبل )