محض اللہ کے لیے

محض اللہ کے لیے

٭    امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ تصنع سے سر جھکائے ہوئے ہے ،گویا کہ لوگوں کو یہ باور کروا رہا ہے کہ میں بڑا نیک ،متقی اور پارسا ہوں۔آپ نے اسے فرمایا:اے ٹیٹرھی گردن والے اپنی گردن سیدھی کر لے ،خشوع دل میں ہوتا ہے، گردن میں نہیں!
٭    حضرت ابوامامہ نے مسجد میں ایک شخص کو دیکھا کہ سجد ے میں پڑا ہوا ہے اور زار و قطار رو رہا ہے۔آپ نے اسے مخاطب کرکے فرمایا:یہ جو کچھ تم مسجد میں کرتے ہو، اگر گھر میں کرتے تو کوئی تم سا نہ ہوتا ۔
٭     امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں، ریاکار کی تین علامتیں ہیں،جب اکیلا ہوتا ہے تو عمل میں سستی اورتساہل برتتا ہے اورجب لوگوں کو دیکھتا ہے تو خوش ہوتا ہے اورجب اس کی تعریف کریں تو عمل زیادہ کردیتا ہے ، جب مذمت کریں تو عمل کم کردیتا ہے۔
٭    ایک شخص نے خیر التابعین حضرت سعید ابن مسیب رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ جو آدمی بظاہر تو ثواب کے لیے لیکن درحقیقت لوگوں سے تعریف سننے کے لیے مال خیرات کرتا ہے اس کے بارے میں آپ کیا ارشادفرماتے ہیں،آپ نے فرمایا:بھلا وہ یہ چاہتا ہے کہ خدا اسے اپنا دشمن ٹھہرائے؟انھوںنے کہا نہیں !تو آپ نے فرمایا:تو پھر اسے چاہیے کہ جو کام بھی کرے اللہ ہی کے لیے کرے۔
٭    امیر المومنین حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ نے ناراض ہوکر ایک شخص کو درے مار دیے پھر اس سے فرمایا:اے میرے بھائی،آ اورمجھ سے اپنا قصاص لے لے اورمجھے مار لے،اس نے عرض کیا اے امیر المومنین ! میںنے آپ کی خاطر اورخدا کی خاطر بخش دیا ،فرمایا:اس طرح بخشنا کام نہیں آتا یا تو فقط میری خاطر بخش دے کہ میں اس کاحق پہچانوں( اور ممنونِ احسان رہوں)یا بلاشرکت غیرے محض اورمحض اللہ رب العز ت کی خاطر بخش اس نے عرض کیا میںنے اللہ ہی کے لیے بلاشرکت غیرے بخشا۔
٭    حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ ارشادفرماتے ہیں، ایک زمانہ تھا کہ لوگ جو کام کیا کرتے تھے اس میں ریا کرتے تھے ،اب جو کام نہیں کرتے اس میں ریا کرتے ہیں۔
٭    حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، بندہ جب ریا کرتا ہے تو حق سبحانہٗ تعالیٰ ارشادفرماتا کہ دیکھو میرا بندہ مجھ سے کیسا استہزاء کررہا ہے۔ (کیمیائے سعادت :امام محمد غزالی  ؒ)