ام المومنین حضرت حفصہؓ (۵)

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
ام المومنین حضرت حفصہؓ (۵)

اُم المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہااُمت میں اختلاف کوبالکل پسند نہیں فرماتی تھیں ، اور اجتماعی معاملات کے اختلاف میں وہ چاہتی تھیں کہ صلح وصفائی کی کوئی صورت نکل آئے ، امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کے دورخلافت میں بعض معاملات میں اختلاف رائے پیداہوا ، اور جنگ وجدل کی نوبت آگئی ،جنگ صفین کے بعد تحکیم کامرحلہ آیا ۔ آپکے برادرعزیز حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اس کوفتنہ سمجھ کرگوشہ نشین ہوناچاہتے تھے ، کیونکہ مصالحت کے مرحلے ،منافقین کے ہنگاموں اورریشہ دوانیوں کی نذرہوگئے تھے ، ایک دن آپ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہاکے پاس آئے اورکہاآپ دیکھ رہی ہیں کہ لوگوں کاکیا حال ہے ، اس لیے میں اس معاملے میں گوشہ نشین ہونا چاہتا ہوں ،سیدہ نے ارشاد فرمایا :گواس میں شرکت سے تمہیں کوئی فائدہ نہیں ، تاہم تمہیں اصلاح کی کوششوں میں شریک رہنا چاہیے ، کیونکہ لوگوں کوتمہاری رائے کاانتظار ہوگا اورممکن ہے تمہاری عزلت گزینی ان میں اختلاف پیدا کردے (صحیح بخاری ) چنانچہ آپ کی تلقین کے مطابق حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اس معاملہ کی اصلاح میں شریک رہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ابن صائد نام کا ایک پر اسرار کردارپیدا ہوا، جسکے بارے میں گمان کیاگیا کہ شاید یہ ”دجال“ ہے۔ (تفصیل کیلئے صحیح مسلم کی کتاب الفتن دیکھئے ) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی ابن صائد سے دوبار ملاقات ہوئی، پہلی ملاقات میں اس نے آپکے سوال کا مبہم سا جواب دیا۔دوسری بار ملاقات ہوئی ، آپ نے دیکھا کہ اسکی ایک آنکھ خراب ہوگئی ہے (دجال کی مشہور علامات میں سے اس کا یک چشم ہونا بھی ہے)آپ نے اس سے استفسار کیا کہ تمہاری یہ آنکھ کب سے خراب ہے، اس نے کہا مجھے معلوم نہیں، آپ نے فرمایا : تمہارے سر میں ہے اورتم ہی کو پتہ نہیں ہے۔ آپکے لہجے میں تلخی کو محسوس کرکے اس نے اپنے استدراج کا مظاہر ہ شروع کردیا اوراس کا جسم اتنا پھول گیا کہ راستہ بند ہوگیا ، اس شیطانی حرکت پر آپ کی رگِ فاروقی پھڑک اُٹھی اورآپ نے عالم جلال میں اپنی لاٹھی سے اسکی ٹھکائی شروع کردی ، اتنا مارا کہ آپکی لاٹھی ٹوٹ گئی شدت جلال کی وجہ آپکو لاٹھی ٹوٹنے کا احساس بھی نہ ہوا بعدمیں آپکے احباب نے بتایا ، حضرت سیدہ حفصہ ؓ کو اس واقعے کی خبر ہوئی توآپ نے حضرت عبداللہ سے فرمایا ، تمہارا اس سے کیا کام ہے؟ تم اسے کیوں بھڑکا رہے ہوکیا تم نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ دجال کو کوئی شخص غصہ دلائے گا، اوروہ اسی غصے میں آکر خروج کریگا۔ (مسلم، مسند احمد بن حنبل ) شعبان 45 ہجری میں آپکا وصال ہوا، گورنر مردان نے نماز جنازہ پڑھائی کچھ دور خود جنازے کو کاندھا دیا، اسکے بعد حضرت ابوہریرہ ؓ جنازہ کو جنت البقیع تک لے گئے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اورانکے صاحبزادوں نے آسودئہ خاک کیا۔ (سیرالصحابہ)