قوم ثمود اور اس کا انجام(۱)

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
قوم ثمود اور اس کا انجام(۱)

قرآن کریم نے عبرت پذیری کے لئے کئی ایک سابقہ اقوام کے قصوں کا ذکر کیا ہے ،ان میں سے ایک قوم ثمود ہے،جس کی طرف حضرت صالح علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا ہے ۔

قرآن کریم جب گزشتہ گزری ہوئی اقوام کا تذکرہ کرتا ہے تو اس کا مقصود اس قوم کی تاریخ اور اس کی جزئیات بیان کرنا نہیں ہوتا بلکہ اس کا مقصود ان کی تاریخ کے اس گوشہ کا بیان ہوتا ہے جس سے آنے والی نسلیںحکمت اور موعظت حاصل کریں ،اورایسے امور کا ارتکاب نہ کریں جو کسی قوم کی تباہی کی وجہ ثابت ہوئے ، ان کے انجام سے عبرت حاصل کریں، اپنے اعمال پر نظر ثانی کریں اور اپنی اصلاح کے لئے مقدور بھر کوشش کریں ۔قرآن کے دیے ہوئے اشاروں کی روشنی سب مفسرین و مورخین نے امکانی حدتک ان کی تاریخ کے خدوخال واضع کرنے کی کوشش کی ہے اور یوں قرآن کے فیضان سے علم تاریخ اس اندازسے سامنے آیا جس کی مثال اس سے پہلے نہیں ملتی۔
قوم ثمود کاتعلق سامی نسل سے تھا،امام ثعلبی کے نزدیک ان کے جداعلی ثمود کا شجرہ نسب اس طرح ہے، ثمودبن عاد بن عوص بن ارم بن سام بن حضرت نوح علیہ السلام۔قوم ثمود جو خطہ حضر موت اور یمن سے عراق تک پھیلی ہوئی تھی اورجن کی طرف حضرت ھود علیہ السلام مبعوث کیے گئے،اللہ ذوالجلال والاکرام کی نافرمانی کے نتیجے میں عذاب کا شکار ہو گئی، حضرت ھود علیہ السلام اوران کے مؤحدپیروکارمحفوظ رہے اور وہاںسے ہجرت کرکے حجرمیںآبادہوگئے یہی ’’قوم ثمود‘‘ کہلائے ، حجر ایک میدانی علاقہ ہے، جو حجازاور شام کے درمیان وادیء قریٰ تک ہے ، آجکل ’’فج الناقہ‘‘ــ کے نام سے مشہور ہے۔
اس قوم کو اللہ کریم نے خوشحالی اور فراوانی عطا کی، کھیت نہایت زرخیز، باغات سر سبز وشاداب اور میووں سے اٹے ہوئے، شیریں پانی کی نہریں اور عمدہ مرغزار دعوت نظارہ دیتے ہوئے، اس کے ساتھ انہیں عمارت گری کا ہنر عطا ہوا ، سنگلاخ پہاڑوں اور پتھریلی چٹانوں کو تراش کر نہایت خوبصورت،مضبوط اور بلند و بالا عمارتیں تعمیر کرتے۔
ثمود کی بستیوںکے آثار اور ان کے کھنڈرات آج بھی موجود ہیں،اور اس زمانے میں بھی بعض مصری اہل تحقیق نے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے،ان کا بیان ہے کہ وہ ایک ایسے مکان میں داخل ہوئے،جو شاہی حویلی کہی جاتی ہے اس میں متعدد کمرے ہیںاور اس حویلی کے ساتھ ایک بہت بڑاحوض ہے اور یہ پورا مکان پہاڑ کاٹ کر بنایاگیا ہے۔
عرب کا مشہور مورخ مسعودی لکھتا ہے۔ جوشخص شام سے حجاز آتا ہے، اسکی راہ میںانکے مٹے نشان اور بوسیدہ کھنڈرات پڑتے ہیں (قصص القرآن: سہوھاردی)