ذوقِ علم

ذوقِ علم

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرب ومحترم صحابی ہیں ۔یہ وہ خوش بخت ہستی ہیں جنہیں مدینہ طیبہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا،انھوںنے ایک موقع پر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث مبارکہ سنی ۔حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے وصال کے بعد ایک وقت ایسا آیا کہ انھیں اس حدیث پاک کے صحیح الفاظ میں کچھ اشتباہ پیدا ہوگیا ، انھیں یاد آیاکہ انہوںنے جس وقت آپ سے یہ حدیث سنی تھی اُس وقت آپ کے ساتھ دوسرے صحابی حضر ت عقبہ بن عامررضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، اتفاق سے اس وقت عقبہ بن عامررضی اللہ عنہ مصر میں تعینات تھے ۔حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فوراً سفر کی تیاری کی اورلق ودق صحرائوں ،کٹھن منزلوں اوردشوار گزار راستوں سے ہوتے ہوئے مصر پہنچے ،اس مسافت میں کم وبیش ایک مہینہ لگا ،وہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی رہائش گاہ سے واقف نہ تھے ،اس لیے پہلے حضرت مسلمہ بن فحلد الانصاری رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے جو اس وقت امیر مصر تھے ،وہاں پہنچتے ہی ان سے کہا کہ میرے ساتھ ایک ایسے شخص کو بھیجو جو مجھے عقبہ بن عامر کے مکان تک پہنچادے ،انھوں نے چاہا کہ آپ پہلے کچھ دیر ان کے پاس ٹھہر یں ،ذرا آرام فرمائیں ، ضیافت قبول کریں اورپھر تروتازہ ہوکر آگے تشریف لے جائیں،لیکن آپ اس پر تیار نہ ہوئے اورآرام وطعام پر طلب علم کو ترجیح دی ۔حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے مکان تک پہنچے ،انھیں خبر ہوئی تو وہ دوڑے دوڑے آئے ،فرط اشتیاق سے آپ کو گلے لگا لیا آپ نے بلا تاخیر ان کے سامنے عرض مدعا کردیا اورفرمایا کہ مومن کی پردہ داری اورعیب پوشی کے متعلق جو حدیث آپ نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے فقط وہ پوچھنے آیا ہوں ۔
عقبہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے ’’میںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے دنیا میں کسی مومن کے عیب کو چھپایا ،قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کے عیبوں کو چھپائے گا‘‘۔
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر تصدیق کی اورفرمایا مجھے اس حدیث کا پہلے بھی علم تھا لیکن مجھے اس کے صحیح الفاظ کے بارے میں کچھ وہم سا ہوگیا تھا ،میںنے مناسب نہ سمجھا کہ میں مکمل تحقیق اورتسلی سے پہلے لوگوں تک اس حدیث کی روایت کروں۔حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ اورآپ کے دوسرے احباب نے بہت اصرار کیا کہ آپ کچھ دن قیام فرمائیں لیکن آپ نے طلب علم کی حسن نیت میں کسی اورچیز کو شامل کرنا پسندنہ فرمایا ،اسی روز واپسی کا سفر اختیار کرلیا،اورمدینہ منورہ لوٹ آئے۔(عینی ،فتح الباری )