رفعت ذکر مصطفی (۲)

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی

مشہور مفسر ابن کثیر نے آیت کریمہ کی تشریح میں حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث نقل کی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جبرائیل میرے پا س آئے اورکہا کہ بے شک میرا رب اور آپ کا رب فرماتا ہے میںنے آپ کا ذکر کیسے بلند کیا ہے ؟حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:اللہ ہی سب سے بڑھ کر جاننے والا ہے تواللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرا ذکر کیا جائیگا تو میرے ساتھ آپ کا ذکر بھی کیا جائے گا۔‘‘
قرآن حکیم کی بکثرت آیات میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ اللہ کے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کاذکر آیا ہے،’’اور ایمان والے ‘ اورایمان والیاں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔نیک باتوں کا آپس میں حکم دیتے ہیں اوربری باتوں سے روکتے رہتے ہیں،اورنماز کی پابندی رکھتے ہیں اورزکوٰۃ دیتے رہتے ہیں‘اوراللہ اوراس کے رسول کی اطاعت کرتے رہتے ہیں۔وہ لوگ ہیں کہ اللہ ضرور ان پر رحمت کریگا‘بے شک اللہ بڑا اختیار والا بڑا حکمت والا ہے‘‘۔(سورۃ التوبہ ۴)
امام رازی نے بڑی عمدگی سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے رفع ذکر کے مختلف پہلوئوں کی نشاندہی کی ہے۔ ’’اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو کہ آسمان وزمین میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اورشہرت کو شامل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کانام گرامی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ شہادت اورتشہد میں بھی آپ کا ذکر موجود ہے ۔ علاوہ ازیں اللہ رب العزت نے کتب سابقہ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا ہے اورسارے عالم میں اس کو پھیلا دیا ہے نبوت آپ پر ختم ہوئی۔ خطبہ ،اذان ، خطوط کے آغاز واختتام میں آپ کا ذکر کیا جاتا ہے ۔قرآن حکیم میں اللہ نے اپنے نام کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو ذکر فرمایا ہے۔‘‘
ضحاک ابن عباس روایت کرتے ہیں’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جہاں میرا ذکر ہوتا ہے وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بھی کیاجاتا ہے ۔حتیٰ کہ اذان، اقامت ،تشہد ،جمعہ کے دن ، جمعرات کے موقعہ پر صفا اورمروہ کے درمیان ،خطبہ نکاح میں بھی روئے زمین کی ہرسمت مشرق ومغرب میں بھی ۔‘‘
سید قطب شہید نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رفع ذکر کے اس منفرد اعزاز کو بڑے فکر انگیز انداز میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے’’ہم نے ملاء اعلیٰ ‘زمین اور تمام موجودات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کو بلند کیا ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو اللہ کے ساتھ بیان کیا ۔جب بھی(انسان)لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ اپنے منہ سے اداکرے گااس بلندی اورعظمت کے بعد بلندی ورفعت کی کوئی گنجائش نہیں۔یہ مقام صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاہوا۔ لوح محفوظ میں بھی ہم نے ذکر بلند کیا۔ نسل درنسل ہر مکان وزمان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم مبارک آنے پر محبت واحترام سے درودوسلام بھیجا جاتا رہے گا۔‘‘(تجلیات رسالت )