کلمہ طیبہ کی حرمت

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
کلمہ طیبہ کی حرمت

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ارشادفرماتے ہیں ،جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے مقابلے کیلئے ایک لشکر روانہ فرمایا: میں بھی اس میں شریک تھا۔ اس معرکے میں بڑی شدت کی خون ریزی ہوئی ۔ جنگ کے دوران ایک مسلمان سپاہی ایک مشرک پر حملہ آور ہوا، وہ مشرک اسکی گرفت میں آگیا۔ مشرک نے فورا بآواز بلند کلمہ طیبہ لاالہ الا اللہ پڑھا اور پکارا کہ میں اسلام قبول کرتا ہوں لیکن اس مسلمان نے اپنے وار جاری رکھے اور بالآخر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ بعدمیں وہ شخص حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور سارا ماجرا بیان کیا۔ آپ نے سارا واقعہ سن کر ارشاد فرمایا : تم نے کیوں نہیں اس کاشکم چاک کرکے دیکھ لیا کہ وہ سچے دل سے کلمہ پڑھ رہا ہے؟ (یا جھوٹ بول رہاہے یعنی شدید اظہارِناگواری فرمایا )جب تم کو اسکے دل کا (صحیح) حال معلوم نہ تھا تو کیوں تم نے اسکی زبان پر اعتبار نہیں کیا؟ آپ نے دوتین مرتبہ اس طرح ارشادفرمایا ، پھر آپ نے سکوت فرمالیا(اس شخص نے اپنے اس عمل پر کسی ندامت کا اظہار نہیں کیا اور سچے دل سے توبہ نہیں کی، جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے باربار اظہارِ ناگواری کے بعد اس پر یہ باتیں ضروری تھیں۔یقینا اسکے دل میں نفاق تھاورنہ صحابہ کرام توحضور اکر م صلی  اللہ علیہ وسلم کے اشارہ ابرو کو بھی سمجھ جاتے تھے،اور انھیں کسی بھی معاملے میں آپ کی ناراضگی کا شائبہ بھی ہوتا تو وہ بے چین ہوجاتے تھے اور اسکے ازالے کی بھر پور کوشش کیا کرتے تھے۔)(راوی کہتے ہیں) کچھ عرصہ بعد اس کی موت واقع ہوگئی۔ ہم نے اسے سپردِ خاک کردیا۔ مگر اگلے دن ہمیں خبر ملی کہ اس شخص کی نعش زمین سے باہر پڑی ہے۔ ہم نے خیال کیا کہ شاید کسی دشمن نے اپنی عداوت کی وجہ سے ایسے حرکت کا ارتکاب کیا ہے۔ ہم نے اسے دوبارہ دفن کردیا۔ اور اپنے غلاموں کو اسکی قبر کی نگرانی پر مامور کردیا تاکہ دوبارہ ایسا واقعہ پیش نہ آئے۔ لیکن اگلے روز پھر اسی طرح ہوا، اور اسکی نعش زمین سے باہر پائی گئی۔ ہم نے سوچا کہ شاید نگرانوں کی آنکھ لگ گئی ہوگی اور کسی نے انکی غفلت سے فائد ہ اٹھا کر دوبارہ اپنا انتقام پورا کیا۔ لہٰذا ہم نے اسے پھر دفن کردیا اور اس بار غلاموں کے ساتھ ساتھ خود بھی نگرانی کرتے رہے ۔ مگر جب سپیدئہ سحر نمودار ہوا تو اس کی نعش کو دوبارہ زمین سے باہرپایا گیا۔ اب ہمیں یقین ہوگیا کہ یہ قدرت کی طرف سے ہے۔ یہ لاالہ الا اللہ کے ایک قائل کو قتل کرنے کی پاداش میں ہے۔ ہم نے یہ واقعہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے گوش گزار کیا توآپ نے ارشاد فرمایا : زمین تو اس سے بدتر کو بھی قبول کرلیتی ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی منشاء یہ ہے کہ لاالہ الااللہ کی عظمت وحرمت عیاں ہو۔ (سنن ابن ماجہ،کنزالعمال )
کیا ہے تو نے متاعِ غرور کا سودا
فریبِ سو دوزیاں ، لاالہ الا اللہ