مصاحبین ہوں تو ایسے

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
مصاحبین ہوں تو ایسے

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ سریر آرائے خلافت ہوئے ، مصالحین ومقربین کا معیار تبدیل ہوگیا، ان سے چلے کئی حکمرانوں کا وطیرہ تھا کہ دربایوں کے بارے میں احتیاط سے کام نہیں لیتے تھے، حضرت عمر علیہ الرحمۃ نے لوگوں سے ارشاد فرمایا:جو شخص میری صحبت میں رہنا چاہتا ہے اسے پانچ باتوں کی پابندی کرنی ہوگی (۱)عدل وانصاف کی جو صورتیں ہم سے اوجھل ہیں انکی طرف ہماری رہنمائی کرے (۲)حق وانصاف کی ترویج میں ہماری مدد کرے (۳)جن لوگوں کی ضرورتیں ہم تک نہیں پہنچ پاتیں انکی ضروریات سے ہمیں مطلع کرے (۴) ہمارے سامنے کسی کی غیبت نہ کرے (۵) حکومت اورتمام لوگوں کی امانت کا حق اداکرے،جو شخص ان امور کا التزام نہیں کرسکتا اسے ہماری صحبت وہم نشینی کی اجازت نہیں مل سکتی ،شعراء کی قدروقیمت اوررسائی بہت زیادہ ہوگئی تھی جو حکمرانوں کی تعریف میں زمین وآسمان کے قلابے ملادیتے لیکن آپ نے انکی مصاحبت سے گریز کیا اورمیمون بن سیران ، رجاء بن حیاۃ اوررباح بن عبیدہ جیسے اہلِ علم ودانش اورصاحبانِ فہم وفراست کو ترجیع دی، آپ کے گھر کے تین افراد آپ کے بھائی سہل ،آپ کے صاحبزادے عبدالملک اورآپ کے غلام مزاحم امور خلافت میں آپ کے خصوصی معاون تھے اورحق کے نفاذ میں آپ کی تائید وقوت کا سبب تھے، ایک موقع پر حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس کا اظہار ان الفاظ میں کیا، اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے سہل عبدالملک اورمزاحم کے ذریعے میری کمر مضبوط کردی،علامہ ابن جوزی تحریر کرتے ہیں، حضرت عمر بن عبدالعزیز رعایا کے مسائل حل میں کرنے میں اس قدرمصروف رہتے کہ آرام میں توآرام کے لیے وقت نہ مل سکتا، ایک دن ظہر کی نماز سے پہلے بہت زیادہ تھکاوٹ محسوس ہونے لگی ، تو کچھ دیر آرام کرنے کے لیے کمرے میں تشریف لے گئے ،ابھی آپ لیٹے ہی تھے کہ آپ کے صاحبزادے عبدالملک حاضر ہوئے اورعرض کی، امیر المومنین آپ یہاں کیسے تشریف فرماہیں، آپ نے فرمایا:
مجھے مسلسل بے آرامی اور مصروفیت کی وجہ سے بہت زیادہ تھکاوٹ محسوس ہورہی تھی ، اس لیے کچھ دیر کمر سیدھی کرنا چاہتا ہوں، انھوںنے کہا:بہت سے لوگ آپ کے منتظر ہیں اورکئی مظلوم اپنی فریادیں لے کر آئے ہیں ان کی دادریسی کون کرے گا، آپ نے فرمایا:میں ساری رات سونہیں سکا، تھوڑی دیر آرام کرلوں تو ظہر کے بعدانکے مسائل حل کروں گا۔بیٹے نے بڑے ادب سے عرض کی:
امیر المومنین کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ ظہر تک زندہ رہیں گے، آپ نے بیٹے کا یہ خلوص دیکھا تو اس کی پیشانی پر بوسہ دیا اورکہا اللہ شکر ہے کہ اس نے مجھے دین کے معاملے میں کرنے والی اولاد عطافرمائی اورباہر تشریف لے آئے۔