آدابِ طعام (۱)

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
آدابِ طعام (۱)

٭حضرت سلیمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے تورات میں پڑھا کہ کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے سے کھانے میں برکت ہوجاتی ہے ۔ میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا:’’کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد ہاتھ دھونے سے کھانے میں برکت ہوجاتی ہے۔ (ابو دائود ،ترمذی )
٭حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جس شخص نے رات اس حالت میں بسر کی کہ اس کے ہاتھ پر چکناہٹ تھی(یعنی کھانے کے بعد ہاتھ نہیں دھوئے)اگر وہ چکنائی اس کے جسم پر لگ گئی تو وہ کسی اور کو ملامت نہ کرے ۔ (ابودائو د ، ترمذی ،بخاری فی ادبِ المفرد)
٭حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوشِ جاں کیا اور کلی فرمائی اور ساتھ ہی فرمایا کہ دودھ کی چکناہٹ ہوتی ہے ۔(صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
٭حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمان سنا کہ جب انسان اپنے گھر میں داخلے کے وقت اور کھانا شروع کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے تو شیطان اپنے چیلوں سے کہتا ہے ، اس گھر میں تمھارے لیے رات بسرکرنے اور شام کے کھانے کی کوئی سبیل نہیں ہے۔ اور جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتا تو شیطان ان سے کہتا ہے۔ اس گھر میں تمھیں شب ِ بسر ی اور کھانا دونوں ہی میسر ہیں ۔ (ابودائود ، ترمذی ،مستدرک )
٭حضرت عمر بن ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھارہا تھا اور میر ا ہاتھ کھانے کے پیالے میں اِدھر اُدھر چل رہا تھا۔ آپ نے ارشاد فرمایا :اے نوجوان! بسم اللہ پڑھ، اپنے دائیں ہاتھ سے کھا، اور اپنے قریب والی جگہ سے کھانالے۔(مسلم، ابن ماجہ ،موطاامام مالک )
٭حضرت عکراش بن ذوئب رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ نبی کریم سلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شوربے میں چُوری کی ہوئی روٹی کی ہنڈیا پیش کی گئی ۔ہم بھی اس میں سے کھانے لگے ۔ میں اس ہنڈیا کے ہر طرف ہاتھ چلانے لگا ۔ آپ نے (یہ دیکھ کر)ارشاد فرمایا : اے عکراش ! ایک جگہ سے کھائو، کیونکہ یہ ایک ہی قسم کاکھانا ہے ۔اس کے بعد ایک بڑاتھال حاضر کیاگیا جس میں کئی اقسام کی کھجوریں تھیں ۔ اب آپ نے ارشاد فرمایا ، اے عکراش! اب جہاں سے مرضی کھائو کیونکہ یہ ایک قسم کا کھانا نہیں ہے۔(مسلم،دارمی ،موطاامام مالک )