اجلااور بے داغ کردار

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
اجلااور بے داغ کردار

اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے محبوب دلنواز محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا پاکیزہ اجلااور بے داغ کردار عطاکیا کہ کسی بڑے سے بڑے دشمن کو بھی کبھی اس پر انگلی اٹھا نے کی جسارت نہ ہوسکی۔ آپ اپنی ولادت کے روز اوّل ہی سے حفاظتِ الہیٰہ میں تھے،قدرت نے اس درِ یتیم کی خود نگہ داشت فرمائی۔آپ نے اس وقت کے نہایت ہی آلودہ ماحول میں ایک معصوم بچپن اور پاکیزہ ترین جوانی بسر کی۔اور اس وقت عزیز میں آپ نے ایک بھر پور عائلی اور سماجی زندگی بسرفرمائی بہت سے اجتماعی معاملات میں حصہ لیا،تجارتی مقاصد کیلئے سفر بھی کیے۔ لوگوں نے آپ کی امانت،دیانت ، صداقت اور صدقِ معاملات کو کھلی آنکھوں سے دیکھا اور مرّوج کردار وعمل کی کسوٹی پر پرکھا بھی ۔

قیس بن سائب کو آپکے ساتھ بہت سے کاروباری معاملات میں شریک ہونے کا موقع ملا۔وہ آپ کے بارے میں شہادت دیتے ہیں۔میں نے کاروبارمیں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)سے بہتر کوئی اور ساتھی نہیں پایا۔اگر ہم ان کا سامان لے جاتے تو واپسی پر وہ ہمارا استقبال کرتے۔ہماری خیروعافیت پوچھتے اور گھر چلے جاتے اور بعدمیں حساب کتاب دینے کے معاملے پر قطعاً کوئی تکرار یا کسی قسم کی کوئی حجت نہ کرتے۔ حالانکہ دوسرے لوگ سب سے پہلی بات صرف اپنے مال کی کیفیت کے متعلق پوچھتے تھے۔اسکے برخلاف اگر آپ خود ہمارا سامان لے کر جاتے تو واپسی پر جب تک پائی پائی بے باک نہ کرلیتے ، کبھی اپنے کاشانہ اقدس کی طرف نہ تشریف لے جاتے۔اپنے ان خصائل حمیدہ کی بنا پر وہ ہمارے درمیان الامین کے لقب سے معروف ہوگئے۔جب کعبہ مقدّسہ کی تعمیر نو ہوئی اور حجرئہ اسود کی تنصیب کے معاملے میں اختلاف پیدا ہوگیا۔ طے یہ ہوا کہ جو بھی شخص سب سے پہلے حرم میں آئے اسے ثالث مان لیا جائے،اچانک آپ تشریف لے آئے آپ کو دیکھ کر سب لوگ بے ساختہ پکار اٹھے۔”یہ تو امین آرہا ہے۔ہم اس پر راضی ہیں۔یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)ہے ہم اسی کے فیصلہ پر رضا مند ہیں۔اسی طرح جنگ بدر کے موقع پر ایک مشرک نے ابو جہل سے تنہائی میں سوال کیا۔ ”یہاں میرے اور تمہارے سوا کوئی تیسرا موجود نہیں ہے،مجھے سچ سچ بتاﺅ کہ تم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کو سچا کہتے ہیں یا جھوٹا،ابوجہل نے جواب میں کہا۔خدا کی قسم محمد ایک سچے انسان ہیں۔انھوں نے عمر بھر کبھی جھوٹ نہیں بولا۔مگر تم ذرا دیکھو تو سہی کہ جب سقایت ،حجابت اور نبوت سب کچھ بنوہاشم ہی کے حصے میں آجائے تو تم ہی بتاﺅ باقی قریشیوں کے پاس کیا رہ جاتا ہے۔
آپ کے کردار کے بارے میں قرآن نے کس اعتماد سے اعلان عام کیا(اے محبوب آپ ان سے پوچھیے)میں (یہ دعوت پیش کرنے سے پہلے )تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں(کیا تمہیںکبھی اس میں کوئی نقص نظر آیا؟)(یونس ۱۶)