مقامات یقین

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ نے ان سے پوچھا: تم نے کس حال میں صبح کی ، حضرت معاذ نے عرض کیا: میں نے آپ پر ایمان لانے کی حالت میں صبح کی ، آپ نے استفسار فرمایا:ہر بات کی صداقت کی کوئی دلیل ہوتی ہے اورہر حق بات کی ایک حقیقت ہوتی ہے۔تمہارے اس قول کے سچ ہونے کی کیا دلیل ہے، حضرت معاذ نے عرض کیا: اے اللہ رب العزت کے پاک نبی جب بھی صبح ہوتی ہے میں یہ سمجھتا ہوں کہ میں شام نہیں کرسکوں گا اورجب بھی شام ہوتی ہے تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ صبح نہیں کرسکوں گااور جب بھی کوئی قدم اٹھاتا ہوں تو یہ گمان کرتا ہوںکہ میں دوسرا قدم نہیں اٹھاسکوں گاگویا کہ میں اُن تمام امتوں کی طرف دیکھ رہا ہوں جو گھٹنوں کے بل بیٹھی ہوئی ہیں اورانہیں ان کے اعمال نامے کی طرف بلایا جارہا ہے اوران کے انبیاء بھی ان کے ساتھ ہیںاور گمراہ امتوں کے ساتھ وہ بت بھی ہیں جن کی وہ اللہ کے علاوہ پرستش کیا کرتے تھے اور گویا کہ میں جہنم والوں کی عقوبت اورجنت والوں کے اجر وثواب کو دیکھ رہا ہوں۔حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے فرمایا: اے معاذ ! تم نے ایمان کی حقیقت پہچان لی اب اسی پر جمے رہنا ۔(ابونعیم)
حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیںکہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں بیٹھا ہوا تھاکہ اتنے میں قبیلہ بنو حارثہ کے حرملہ بن زید انصاری حاضر ہوئے وہ آپ کے سامنے بیٹھ گئے ہاتھ سے اپنی زبان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگے یارسول اللہ ! یہاں پر ایمان ہے اورسینے پر ہاتھ رکھ کے کہا لیکن یہاں نفاق ہے یہ دل اللہ کا ذکر بہت کم کرتا ہے ، حضور خاموش رہے ،حرملہ نے پھر اپنی بات دہرائی اس پر حضورنے ان کی زبان کی کنارہ پکڑ کر ارشاد فرمایا: اے اللہ ! اس کی زبان کو سچ بولنے والا اور اس کے دل کو شکر کرنے والا بنادے، اسے میری محبت نصیب فرمااورجو مجھ سے محبت کرے اس کی محبت بھی اسے نصیب فرمادے اوراس کے معاملے کو خیر کی طرف موڑ دے ۔
حضرت حرملہ نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میرے بہت سے بھائی منافق ہیں ، میں ان کا سردار تھا کیا میں آپ کو ان کے نام نہ بتادوں ، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:جو بھی ہمارے پاس اس طرح آئے گا جس طرح تم ہمارے پاس آگئے ہوتو ہم اس کے لیے ایسے ہی استغفار کریں گے جیسا کہ ہم نے تمہارے لیے کیا اورجو اپنی روش نفاق پر ڈٹا رہے گا اللہ رب العزت اس سے خود ہی نبٹ لے گا۔(طبرانی، ابونعیم)